پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خیال تھا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ لنچ کر کے دنیا جیت لی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب ان کی تعریف کی تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔ لیکن اب ٹرمپ نے اس لنچ کی قیمت مانگ لی ہے۔ قیمت اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان کے لیے انکار کرنا مشکل ہو گا۔ یہ “سامنے کنواں اور پیچھے کھائی” جیسا کھیل ہے جس میں پاکستان کے لئے ہار ہی ہار ہے ۔
ٹرمپ سودے بازی کے فن کے ماہر ہیں۔ وہ ڈپلومیسی میں مفت لنچ پر یقین نہیں رکھتے۔ ٹرمپ نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن اب ایسی شرط لگا دی ہے جو پاکستان کے پلڑے میں کانٹا بن گئی ہے۔ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو نو تشکیل شدہ “غزہ پیس بورڈ” میں شمولیت کا باضابطہ دعوت نامہ بھیجا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بڑے فخر سے دعوت کی تصدیق کی لیکن پردے کے پیچھے راولپنڈی (پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر) سے لے کر پارلیمنٹ ہاؤس تک سب کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے “سامنے کنواں اور پیچھے کھائی” جیسا کھیل ہے۔ یہ پیشکش کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک سفارتی پھندا ہے، جس میں پھنسا پاکستان کی مجبور ی بھی ہے اور اس کی بربادی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
یہاں خرابی یہ ہے کہ اس بورڈ کا ممبر بننے کا مطلب براہ راست زمین پر ذمہ داری لینا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کبھی نہیں چاہے گی کہ امریکی فوجی غزہ کی گلیوں میں حماس کے خلاف لڑیں۔ ٹرمپ امن کے نام پر مسلم ممالک کی فوجوں کو غزہ میں داخل ہوتے دیکھنا چاہیں گے۔ اگر پاکستان اس بورڈ کا حصہ بنتا ہے تو جلد یا بدیر وہ اپنی فوج (پاک فوج) غزہ بھیجنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
کیوں ٹینشن میں ہے پاکستان ؟
یہی بات پاکستان کو خوفزدہ کر رہی ہے۔ غزہ میں فوج بھیجنے کا مطلب حماس اور اسلامی جہاد جیسی تنظیموں سے نمٹنا، انہیں غیر مسلح کرنا اور ضرورت پڑنے پر ان پر فائرنگ کرنا ہے۔ کیا پاکستانی عوام اپنی فوج کو قبول کرے گی ، جسے وہ “اسلام کا محافظ” سمجھتے ہیں، غزہ میں جا کر فلسطینیوں یا حماس کے جنگجوؤں پر گولیاں برسائے؟ اس سے پاکستان میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں اسرائیل مخالف جذبات پہلے ہی عروج پر ہیں۔ لہٰذا، اگر پاکستانی فوج کو اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے یا حماس پر قابو پانے کے لیے وہاں تعینات کیا گیا تو یہ شہباز شریف حکومت کے لیے خودکشی ہوگی۔