مسلم کونسل آف ایلڈرز نے نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں’’انسانی اخوت کے دستاویز کی روح پر بین المذاہب مکالمہ‘‘کے عنوان سے اپنا دوسرا سیمینار منعقد کیا۔ اس نشست میں ممتاز علماء، دانشوروں اور امن کے علمبرداروں نے شرکت کی، جہاں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ انسانی اخوت کے دستاویز کے اصول کس طرح معاشروں کی رہنمائی کرتے ہوئے گہری تفہیم، پُرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔
مشہور روحانی محقق، انسدادِ انتہاپسندی اور امن کے سرگرم کارکن گیانی جسکیرت سنگھ نے انسانی اخوت کے دستاویز کو ایک تبدیلی آفرین اقدام قرار دیا جو دنیا کو پائیدار امن کی تعمیر کے لیے درکار سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی بین المذاہب مکالمہ اس بنیادی حقیقت کے اعتراف سے شروع ہونا چاہیے کہ ’’انسان ہونے کے ناطے ہم سب برابر ہیں‘‘۔
سنگھ نے استدلال کیا کہ امن، اختلافات کو نمایاں کرنے سے نہیں، بلکہ اُن گہری مشترک قدروں کی شناخت سے جنم لیتا ہے جو تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔ انہوں نے اس خیال پر بھی روشنی ڈالی کہ اندرونی کشمکش اکثر بیرونی انتشار کا سبب بنتی ہے، اور یہ کہ ’’خیالات، عقائد، ثقافت یا روایت سے ماورا حقیقی امن ہماری مشترکہ انسانیت کے شعور میں بیداری اور دوسروں کے دکھ درد کے لیے حساس ہونے سے پیدا ہوتا ہے‘‘۔ ان کے بقول، بین المذاہب بیٹھکیں اور مکالمے اسی ازسرِنو دریافت کے لیے سازگار فضا فراہم کرتے ہیں۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی مطالعات کے پروفیسر ڈاکٹر پی۔ آر۔ کمارسوامی، نے انسانی اخوت کے دستاویز کو ایک جامع، لازمانی اور محض رواداری کے بجائے برابری کے بنیادی اصول پر استوار قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایک ایسا’ ’راہنما نقشہ (روڈمیپ) کہا جو مکمل ہو کر ٹھہر جانے والی دستاویز نہیں، بلکہ مسلسل نکھار اور عملی نفاذ کی دعوت دیتا ہے‘‘۔
کمارسوامی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حقیقی مکالمہ برابری، باہمی احترام اور مختلف مذاہب کے درمیان مشترک اقدار پر توجہ دینے کے جذبے پر قائم ہوتا ہے، تاکہ ناگزیر اختلافات کو بہتر طور پر سنبھالا جا سکے۔ ان کے مطابق، حتیٰ کہ گہرے اختلافات کی موجودگی میں بھی، جہالت، تعصب اور انتہاپسندی میں کمی لانے کے لیے مکالمہ ایک ناگزیر ذریعہ بنا رہتا ہے۔
، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں انگریزی زبان و ادب کے پروفیسر ڈاکٹر راجیش کمار ، نے انسانی اخوت کے دستاویز کو ’’آج کی اخلاقی ضرورت قرار دیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اخوت کی روح کو مضبوط بنانے کے لیے ممتاز عیسائی اور مسلم شخصیات کی جانب سے دستخط شدہ یہ دستاویز، ہندوستانی آئین میں وقار کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے لیے اخوت پر دیے گئے زور سے گہری ہم آہنگی رکھتی ہے۔
پروفیسر کمار نے اس بات پر زور دیا کہ اس دستاویز کا بنیادی جوہر دوسروں کو’’بھائی یا بہن‘‘کے طور پر دیکھنے میں مضمر ہے۔ اچھے سامری (Good Samaritan) کی تمثیلی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہمدردی کس طرح مذہبی سرحدوں سے ماورا ہو جاتی ہے اور یہ کہ بلا شرط مدد ایک آفاقی اخلاقی فریضہ ہے۔ پروفیسر کمار نے مزید اس بات کی تاکید کی کہ انسانی ہمدردی اور بین المذاہب تفہیم کو فروغ دینے والے مکالمے پُرامن معاشروں کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔
سیمینار کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسانی اخوت کا دستاویز جدید چیلنجوں—خواہ وہ انتہاپسندی ہوں، معاشرتی تقسیم ہو یا ثقافتی انتشار—سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر فریم ورک فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ انسانی وقار اور مشترکہ ذمہ داری میں جڑی ہوئی لازمانی اقدار کو ازسرِنو متحرک کرتا ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کو ایک مستقل اور فعال عمل بنایا جائے، تاکہ معاشرے تعصبات اور دقیانوسی تصورات سے آگے بڑھ کر حقیقی بقائے باہمی کی طرف پیش قدمی کر سکیں۔
مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یہ دستاویز—جس پر 2019 میں حضرتِ پوپ فرانسس اور الازہر کے شیخِ اکبر، ڈاکٹر احمد الطیب نے مشترکہ طور پر دستخط کیے تھے—تقسیم اور تنازعات سے عبارت اس دور میں اخوت، ہمدردی اور مشترکہ انسانیت کے لیے عالمی سطح پر دی جانے والی سب سے اہم اپیلوں میں سے ایک کلیدی اپیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں’ مسلم کونسل آف ایلڈرز‘ کی شرکت اس کے اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ علم اور ثقافت افہام و تفہیم کے فروغ، تقسیم اور انتشار کا مقابلہ کرنے، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، اور عالمی مسائل سے نمٹنے میں مذہبی اور فکری اداروں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بنیادی ستون ہیں، نیز یہی عناصر معاشروں کے درمیان رابطے، مکالمے اور ابلاغ کے پل تعمیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں کونسل کا پویلین بھارت منڈپم، ہال نمبر 4، پویلین H-06 میں واقع ہے۔