سعودی عرب: مسجد نبوی میں ایک سال کے دوران ۸؍ ہزار۳۳۵؍ طلبہ نے قرآن مجید حفظ کیا

(اےیوایس)

مدینہ منورہ مسجد نبوی میں ۲۰۲۵ء کے دوران قرآنی تعلیم کے حلقوں میں ۸؍ ہزار۳۳۵؍ طلبہ نے قرآن کریم حفظ کیا۔ ورچوئل قرآنی تعلیم پروگرام میں ۴۰؍ ہزار طلبہ کی رجسٹریشن کی گئی اور ۳؍ ہزار سے زیادہ تعلیمی حلقوں کا بندوبست کیا گیا۔

مسجد نبوی میں طلبہ قرآن کریم حفظ کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
مدینہ منورہ مسجد نبوی میں ۲۰۲۵ء کے دوران قرآنی تعلیم کے حلقوں میں ۸؍ ہزار۳۳۵؍ طلبہ نے قرآن کریم حفظ کیا۔ سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق مسجد نبوی میں دینی تعلیم کے پروگرام سے جہاں عام طلبہ مستفیض ہوتے ہیں، علوم دینی سے سالانہ بنیادوں پر دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے زائرین اور حجاج بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ جاری اعداد وشمار کے مطابق مسجد نبوی کے دروسِ قرآن کے حلقوں سے سالانہ۲ء۱؍ ملین عمرہ زائرین و حجاج مستفیض ہوتے ہیں جبکہ ۲؍لاکھ کے قریب قرآن کریم و سنت نبوی کلاسوں سے فارغ ہونے والوں کو اسناد جاری کی گئی، علاوہ ازیں ۲؍ لاکھ نئے طلبہ رجسٹرکئے گئے۔

مسجد نبوی کے حلقوں میں ۱۷۰؍ ممالک کے طلبہ مستفیض ہوئے اور ایک لاکھ۸۶؍ ہزار کے قریب سنت نبوی اور علمی نصوص کے لائسنس جاری کئے گئے۔ سنت نبوی اورعلمی نصوص کے شعبہ حفظ سے ۲۵؍ ہزار طلبہ فراغ التحصیل ہوئے ہیں۔ ورچوئل قرآنی تعلیم پروگرام میں ۴۰؍ ہزار طلبہ کی رجسٹریشن کی گئی اور ۳؍ ہزار سے زیادہ تعلیمی حلقوں کا بندوبست کیا گیا، ان حلقوں کی نگرانی کیلئے۱۵۰۰؍ مرد وخواتین اساتذہ کو متعین کیا گیا۔ یومیہ بنیادوں پر طلبہ میں ۳۰؍ لاکھ سے زیادہ خوراک کے پیکٹس تقسیم کئے تاکہ دوران تعلیم طلبہ کی خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

ایران :ملک گیر مظاہروں میں مزید شدت

گزشتہ ۱۱؍ روز سےتمام ۳۱؍صوبوں میں احتجاج ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں ۳۴؍ مظاہرین اور ۴؍سیکوریٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایران میں معاشی بحران اور ریال کی قدر میں گراوٹ کیخلاف احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی جہاں تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے دو سیکوریٹی اہلکار جاں بحق جبکہ ۳۰؍زخمی ہوگئے۔ فارس نیوز کے مطابق احتجاج اُس وقت پُرتشدد شکل اختیار کرگیا جب لردگان شہر میں د کاندار اپنی دکانیں بند کرنے کے بعد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ بعض مظاہرین نے سیکوریٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، لردگان شہر میں مظاہرین نے گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔
سرحدی صوبے شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی، ایران میں مہنگائی کے خلاف  مظاہرے ۱۱؍ روز سے جاری ہیں اور اس دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد۳۶؍ہوچکی ہے۔ایران سے منسلک   انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے بتایا کہ ایران کے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ۳۸؍تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی گروپ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک بھر میں ۱۱؍دن سے مظاہرے جاری ہیں۔ گروپ نے مزید کہا کہ تمام ۳۱؍صوبوں میں احتجاج ہوئے جن کے نتیجے میں ۳۴؍ مظاہرین اور ۴؍سیکوریٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ ۳۴۸؍ مقامات پر ہو نے والے مظاہروں میں درجنوں زخمی ہوئے جبکہ ۲۲۱۷؍ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا البتہ حکام نے ہلاک یا زخمی افراد کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر تہران مظاہرین پر بے دریغ طاقت استعمال کرتا ہے تو واشنگٹن مظاہرین کی مدد کیلئے آئے گا۔ ایران کو حالیہ ہفتوں میں بگڑتی معیشت اور ریال کی قدر میں شدید گرواٹ سےبڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *