ٹرمپ نے پہلی بار اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ۲۰۱۹ء میں گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔ یہ معاملہ وینزویلا میں امریکی فوج کے حالیہ آپریشن کے بعد دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ، یورپی ملک ڈنمارک کے تحت نیم خود مختار علاقہ ہے، جو امریکہ کا اتحادی ملک ہے۔ گرین لینڈ اپنے اندرونی معاملات خود سنبھالتا ہے، لیکن ڈنمارک اس کی خارجہ پالیسی اور دفاع پر کنٹرول رکھتا ہے۔ اس جزیرے پر پہلے سے ہی امریکہ کا ایک فوجی اڈہ موجود ہے۔ گرین لینڈ اسٹریٹجک طور پر اہم آرکٹک خطے میں واقع ہے جہاں روس اور چین اپنا رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے پہلی بار اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ۲۰۱۹ء میں گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔ یہ معاملہ وینزویلا میں امریکی فوج کے حالیہ آپریشن، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا، کے بعد دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ گرین لینڈ کے لیڈران نے متعدد دفعہ صاف کہا ہے کہ جزیرے کی عوام امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔
نیٹو کے ایک اتحادی ملک کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کے امکان نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن نے بیان دیا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ کے الحاق کا ”کوئی حق“ نہیں ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ”تاریخی طور پر اپنے قریبی اتحادی“ کو دھمکیاں دینا بند کرے۔ یورپی لیڈران نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کرتے ہوئے اس کی خودمختاری کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ یہ جزیرہ ”وہاں کے لوگوں کا ہے۔“