یہ رپورٹ اسی وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ ’’اگر مزید مظاہرین مارے گئے تو امریکہ کی طرف سے سخت کارروائی ہوگی۔ ہم یہ سب قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ لوگوں کو اسی طرح قتل کرنے لگے جیسے انہوں نے ماضی میں کیا تھا، تو میرے خیال سے وہ امریکہ کی طرف سے سخت کار روائی کا سامنا کریں گے۔‘‘ یاد رہے کہ حال ہی میں ۲؍ جنوری کو انہوں سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ’’ہم لاک اور لوڈ ہیں اور جانے کیلئے تیار ہیں۔ اس موضوع پر توجہ کیلئے آپ کا شکریہ۔‘‘ آپریشن ایبسولیوٹ نام سے جاری ایک کارروائی میں امریکہ نے سنیچر ۳؍ جنوری کو وینزویلا میں کراکس میں بمباری کی اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورز کو ان کے محل سے گرفتار کیا۔ مادورو کو یو ایس ایس جیما، پھر گونتانامو بے اور آخر میں سرکاری ہوائی جہاز سے نیویارک میں اسٹیورٹ میں ایئر نیشنل گارڈ بیس تک لے جایا گیا۔ انہیں منشیات کی خرید و فروخت کے الزام میں بروکلین کے بدنام زمانہ میٹروپولیٹن حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ وہ آج ۵؍ جنوری کو مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔
ایران مظاہرہ
ایرانیوں نے ۲۸؍ دسمبر کو معاشی بدحالی کے خلاف مظاہرے شروع کئے اور سیاسی نظام بدلنے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب دسمبر ۲۰۲۵ء میں ایرانی ریال کی قدر ایک ڈالر کے مقابلے تقریباً ۴۵ء۱ بلین ریال ہو گئی۔ سال کے آغاز سے اب تک اس کی قدر تقریباً نصف تک گر گئی ہے۔ بعد ازاں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ۷۲؍ فیصد اور طبی اشیا کی قیمتوں میں ۵۰؍ فیصد کے اضافہ کے ساتھ مہنگائی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مظاہروں میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ٹیکس میں ۶۲؍ فیصد اضافہ کے ساتھ ۲۰۲۶ء کا بجٹ پیش کیا گیا۔ کچھ ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مظاہرین ایران کے آخری شاہ محمد رضا شاہ کے بڑے بیٹے ولی عہد رضا شاہ پہلوی (ملک بدر) کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں۔ سرکاری رپورٹوں کے مطابق اب تک محافظ اہلکاروں سمیت تقریباً ۱۲؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔