بیرونِ ملک سے بھارت مخالف سرگرمیوں کے خلاف بڑا ایکشن : نیوز18 سپر ایکسکلوسیو
(دسمبر22اےیوایس)
ایک بڑی اور اہم پیش رفت میں، خصوصی این آئی اے عدالت، بڈگام نے غلام نبی شاہ عرف ڈاکٹر فائی کی جائیدادوں کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 83 (جو اب BNSS کی دفعہ 85 ہے) کے تحت ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب عدالت نے 26 اپریل 2025 کو FIR نمبر 46/2020 میں ملزم کو مفرور (Proclaimed Absconder) قرار دیا۔ یہ مقدمہ غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ – UAPA کی دفعات 10، 13 اور 39 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ملزم سید غلام نبی فائی (پیدائش : اپریل 1949) ایک کشمیری نژاد امریکی شہری ہے اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ سرگرم کارکن رہا ہے۔ اس نے امریکہ میں Kashmiri American Council کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جس پر الزام ہے کہ وہ کشمیری علیحدگی پسند گروہوں اور حکومتِ پاکستان کے حق میں لابنگ کرتا رہا۔
سنہ 2011 میں امریکی حکومت نے واضح طور پر کہا تھا کہ Kashmiri American Council دراصل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (ISI) کی ایک فرنٹ تنظیم کے طور پر کام کر رہی تھی۔
اسی سال FBI نے غلام نبی فائی کو امریکہ میں گرفتار کیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ پاکستانی ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا لیکن اس نے امریکی قانون کے تحت خود کو رجسٹر نہیں کروایا۔
امریکی عدالت میں اعتراف جرم
غلام نبی فائی نے امریکی وفاقی عدالت میں جرم کا اعتراف کیا
اس نے تسلیم کیا کہ اسے پاکستان کی ISI سے مالی معاونت حاصل ہوتی رہی
اس پر غیر قانونی لابنگ، سازش اور دیگر الزامات ثابت ہوئے
وہ قید کی سزا کاٹ چکا ہے
بھارت میں جائیداد کی ضبطی کی تفصیلات
خصوصی این آئی اے عدالت بڈگام نے حکم دیا ہے کہ غلام نبی فائی کی درج ذیل غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی جائیں :
1 کنال 2 مرلے زمین ۔ گاؤں وڈوان، بڈگام
11 مرلے زمین ۔ گاؤں چٹابغ، بڈگام
- عدالت نے ضلع کلکٹر بڈگام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان زمینوں کو اپنے قبضے میں لیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی بڈگام کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ضبطی کے عمل میں مکمل تعاون فراہم کریں اور عدالتی حکم کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔ - غلام نبی فائی کا نام گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر مسئلہ پر بین الاقوامی سطح پر لابنگ، خاص طور پر امریکہ میں، کے حوالے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ بھارتی تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق، وہ بیرونِ ملک بیٹھ کر بھارت مخالف بیا بازی ، مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دیتا رہا۔
یہ جائیداد ضبطی کی کارروائی اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اب غیر ملکی سرزمین سے چلنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی اقدامات کر رہا ہے۔