بہار: مسلمان دکاندار پر حملہ کرنے کے الزام میں آٹھ افراد گرفتار
’’دی ہندو‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بہار کے نوادہ ضلع میں ایک مسلم کپڑا فروش پر حملے کے معاملے میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعہ کو انتقال کر گیا تھا۔
December 16 (aus)
یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہیتا کی اُن دفعات کے تحت درج کیا گیا جو غیر قانونی اجتماع، فساد، سنگین چوٹ، خطرناک ذرائع کے استعمال، اعانتِ جرم اور مشترکہ نیت سے متعلق ہیں۔ بعد میں اس کیس میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔ سنیچرکو نوادہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھینو دھیمان نے بتایا کہ صدر سب ڈویژنل پولیس افسر کی نگرانی میں تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے شکایت درج ہونے کے۲۴؍ گھنٹوں کے اندر چار ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، ’’مزید تفتیش کی بنیاد پر اس کیس میں ملوث چار مزید ملزمان کو۱۳؍ دسمبر کو گرفتار کیا گیا۔ اب تک مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور سبھی کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ ‘‘بیان میں مزید کہا گیا کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کیلئے تلاش جاری ہے۔
واقعے کے بعد ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں حسین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے ان کا نام پوچھا، انہیں سائیکل سے گھسیٹ کر نیچے اتارا، ۱۸؍ ہزار روپے لوٹ لئے اور ان پر تشدد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں حملہ آوروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً۱۵؍ سے۲۰؍ ہو گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ہجوم نے ’’انہیں برہنہ کرکے ان کے نجی اعضا کی جانچ کی اور گرم لوہے کی سلاخ سے ان کے جسم کو داغا۔ ‘‘حسین کو پہلے روہ کے پرائمری ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا، جہاں سے انہیں نوادہ صدر اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں پاواپوری وی آئی ایم ایس لے جایا گیا، جہاں جمعہ کی رات وہ انتقال کرگئے۔ دریں اثنا، اس کیس میں نامزد ایک ملزم سکندر یادو کی جانب سے دائر کی گئی جوابی شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ حملے کی رات حسین نے چوری کی کوشش کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس شکایت کی بھی جانچ کر رہی ہے۔