غزہ سے اظہار یکجہتی: ملائیشیا میں عالمی برانڈز کے مقابلے مقامی فوڈ چینز کی ترقی

(اےیوایس)

غزہ سے اظہار یکجہتی: ملائیشیا میں عالمی برانڈز کے مقابلے مقامی فوڈ چینز کی ترقی

(دسمبر 16اےیوایس)

غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیل کی حمایت کرنے والی امریکی کمپنیوں کے بائیکاٹ نے ملائیشیا میں صارفین کے رویے بدل دیئے ہیں۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں احمدز فرائیڈ چکن اور زُس کافی جیسے مقامی برانڈز تیزی سے ابھرے ہیں جبکہ میکڈونالڈز اور اسٹاربکس جیسے عالمی برانڈز کو دباؤ کا سامنا ہے۔

۲۰۲۴ء کے موسمِ گرما کی ایک دوپہر جب ملائیشیا کے شہری شاہ عالم میں لیلۃ السرہجنہ محمد اسماعیل کے بچے ایک بار پھر میکڈونالڈز جانے کی ضد کر رہے تھے، تو ان کے والدین نے ایک مختلف فیصلہ کیا۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور اسرائیل کیلئےامریکی حمایت کے خلاف جاری بائیکاٹ کے تحت، انہوں نے بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز سے دور رہنے کا انتخاب کیا۔ لیلۃ السرہجنہ نے بچوں کی فرائیڈ چکن کی خواہش کو گھر میں ہی پورا کیا، مگر یہی لمحہ ایک بڑے کاروباری خیال کی بنیاد بن گیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ شاید ہزاروں نہیں تو لاکھوں ملائیشیائی صارفین بھی یہی چاہتے ہیں: بین الاقوامی برانڈز کے متبادل، جو مقامی ہوں اور سیاسی تنازعات سے جڑے نہ ہوں۔

اسی سوچ کے تحت لیلۃ السرہجنہ اور ان کے شوہر محمد توفیق خیرالدین نے ایک فوڈ ٹرک سے ’’احمدز فرائیڈ چکن‘‘ کا آغاز کیا۔ صرف ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں اس برانڈ کے ۳۵؍ آؤٹ لیٹس کھل چکے ہیں جبکہ ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ۱۱۰؍ شاخیں کھولنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔لیلۃ السرہجنہ کے مطابق،’’ہم نے صرف ایک متبادل فراہم کیا، لیکن صارفین نے ہمیں غیر معمولی پذیرائی دی۔‘‘ تقریباً ۳؍ کروڑ ۴۰؍ لاکھ آبادی والے ملائیشیا میں، جہاں دو تہائی سے زائد آبادی مسلمان ہے، فلسطین کے حق میں جذبات نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی فیصلوں پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ صارفین کی جانب سے عالمی ریستوران چینز کے بائیکاٹ نے مقامی کاروباروں کو فروغ دیا ہے۔
اسی رجحان کی ایک بڑی مثال زُس کافی (Zus Coffee) ہے۔ ۲۰۲۳ء میں جب اسٹاربکس کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تو زُس کافی نے اپنے اسٹورز کی تعداد دوگنا کر دی۔ آج یہ چین ملائیشیا میں ۷۰۰؍  سے زائد آؤٹ لیٹس کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی کافی چین بن چکی ہے، جو مقامی ذائقوں جیسے ناریل اور پام شوگر پر مبنی مشروبات پیش کرتی ہے۔جیو پولیٹیکل کنسلٹنگ فرم ویو فائنڈر گلوبل افیئرز کے بانی ادیب زلکاپلی کہتے ہیں:’’یہ تبدیلی مستقل ہے۔ فلسطین ملائیشیا کی سیاست میں خارجہ پالیسی کا سب سے اہم مسئلہ ہے، اور یہی صارفین کو متبادل برانڈز کی طرف لے جا رہا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ ملائیشیا حالیہ برسوں میں فلسطینی حامی جذبات کا مضبوط مرکز بن چکا ہے۔ وزیر اعظم انور ابراہیم کی فلسطینی کاز کی کھلی حمایت نے انہیں مذہبی ووٹ بینک میں مقبول بنایا ہے۔ ملک میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں، جبکہ فلسطین کے حق میں ریلیوں اور نعروں کی گونج عام ہے۔ یا د ہے کہ اسرائیل حماس جنگ کے آغاز پر میکڈونالڈز اس وقت شدید تنقید کی زد میں آیا جب اسرائیل میں اس کے فرنچائز اسٹورز کی جانب سے فوجیوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کی تصاویر وائرل ہوئیں۔ اگرچہ میکڈونالڈز ملائیشیا نے خود کو ان اقدامات سے الگ کیا، مگر ملک بھر میں احتجاج، توڑ پھوڑ اور بائیکاٹ جاری رہا۔ یہ رجحان صرف ملائیشیا تک محدود نہیں۔ ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا میں بھی مغربی برانڈز کو بائیکاٹ کے باعث مارکیٹ شیئر میں کمی کا سامنا ہے۔ انڈونیشیا میں کے ایف سی کے درجنوں اسٹورز بند ہو چکے ہیں۔

زُس کافی کے چیف آپریٹنگ آفیسر وینن تیان کے مطابق ’’مقامی برانڈز پر بڑھتا ہوا اعتماد ایک ایسا رجحان ہے جسے ہم برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر مقامی برانڈ اس تیزی سے ترقی نہیں کر پائے گا۔ ملائیشیا انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک ریسرچ کے عزیز العمیل الدین کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی توسیع میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب، اسٹاربکس ملائیشیا کے آپریٹر برجایا فوڈ کے سی ای او سڈنی لارنس کوئز کے مطابق،’’ورثے میں ملے برانڈز کی اپنی طاقت اور شناخت ہے، اور کاروبار بتدریج بحال ہو رہا ہے۔‘‘ اس کے باوجود، فی الحال مقامی برانڈز عروج پر ہیں۔ احمدز فرائیڈ چکن ماہانہ تقریباً ۳۰؍ لاکھ رنگٹ کی فروخت کر رہا ہے، جو ابتدائی سرمایہ کاری کے مقابلے میں غیر معمولی کامیابی ہے۔ شاہ عالم میں احمدز فرائیڈ چکن کے ایک نئے آؤٹ لیٹ میں دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے ۴۱؍ سالہ فیصل محمد کہتے ہیں:’’مجھے نہیں لگتا کہ میں دوبارہ عالمی فاسٹ فوڈ چینز کی طرف جاؤں گا۔ مقامی برانڈز بھی اتنے ہی اچھے ہیں، فرق صرف سیاست کا ہے۔‘‘

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *