بی جےپی ۱۰؍ ہزار ۱۰۷؍ کروڑکی مالک، کانگریس کے پاس صرف ۱۳۴؍ کروڑ
December 13 (aus)
اجے ماکن نے انتخابی چندہ کی نابرابری اور ۲۰؍ سال میں زعفرانی پارٹی کو ملنےوالے غیر معمولی فنڈکی قلعی کھول دی،کانگریس کا چندہ روکنے کیلئے ای ڈی کے استعمال کا الزام لگایا
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے درمیان وسائل میں اس طرح کا عدم توازن برابری کے مواقع کو تباہ کرتا ہے، جو ’’صحت مند جمہوریت کے تین بنیادی ستونوں‘‘ میں سے ایک ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ باقی دو ستون ’’شفافیت‘‘ اور انتخابی عمل کی ’’ساکھ‘‘ بھی مجروح ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۰۴ء کے بعد گزشتہ۲۰؍ برسوں میں بی جے پی کا بینک بیلنس۸۷ء۹۶؍ کروڑ روپے سے بڑھ کر ۱۰؍ہزار ۱۰۷ء۲؍ کروڑ روپے ہوگیا جبکہ کانگریس کا انتخابی فنڈ ۳۸ء۴۸؍ کروڑ روپے سے بڑھ کرصرف ۱۳۳ء۹۷؍ کروڑ روپے ہوا ہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۴ء کے بعد سے مرکز پر کانگریس برسراقتدار تھی مگر ۲۰۰۹ء تک اس کے اور بی جےپی کے فنڈ میں اضافہ میں بہت زیادہ فرق نہیں تھا۔اس کا فنڈ بڑھ کر ۲۰۰۹ء میں اگر ۲۲۱؍کروڑ روپے ہوا تو بی جےپی کا فنڈ ۱۵۰؍ کروڑ تک پہنچ گیا۔ مگر ۲۰۱۴ء میں بی جےپی کے اقتدار میں آنے کے بعد ۲۰۱۹ء تک اس فرق میں اضافہ ہونے لگا۔ ۲۰۱۹ء میں بی جے پی کے پاس۳؍ ہزار ۵۶۲؍ کروڑ روپے تھے جبکہ کانگریس کے پاس ۳۱۵؍ کروڑ روپے ۔ یعنی زعفرانی پارٹی کے پاس کانگریس کے مقابلے میں انتخابی فنڈ ۱۱؍ فیصد زیادہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد اس فرق میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اجے ماکن کے مطابق ’’۲۰۲۴ء میں بی جے پی ۱۰؍ ہزار ۱۰۷ء۲؍ کروڑ کی مالک بن گئی جبکہ کانگریس کے پاس۱۳۳ء۹۷؍ کروڑ روپے ہی ہوپائے۔‘‘