ایران سے معاہدہ ہوا تو خامنہ ای سے ملاقات اعزاز ہوگی، ٹرمپ کا عندیہ

(اےیوایس)

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کو اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور خامنہ ای مذاکراتی عمل میں براہِ راست شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ممکنہ ملاقات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایسی ملاقات ان کے لیے باعثِ اعزاز ہوگی۔ وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں ملاقات کرنا نہیں چاہتا، لیکن اگر ملاقات ہوئی تو ان سے ملنا میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا ہم کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں، اور اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ میں ان سے ملاقات کروں۔‘‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں متعدد مواقع پر کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مذاکراتی عمل میں براہِ راست کردار ادا کر رہے ہیں اور مستقبل میں ان سے ملاقات کا امکان موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ایران سے وابستہ کارروائیوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر وہ امریکی فوجیوں کو مار دیتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی وجہ ہوگی، اور میں سمجھتا ہوں کہ میں بہت جلد ایسا کروں گا۔‘‘ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کو ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے کسی باضابطہ معاہدے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق، ’’ہم اسے ابھی بھی حاصل کر سکتے ہیں، اگر ہم چاہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ ہمیں روک سکتے ہیں، لیکن فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
تازہ ترین پیش رفت میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’انہوں نے پہلے ہی اتفاق کر لیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے۔‘‘ تاہم ایران نے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے اور تہران مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات میں ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی اور باقاعدہ مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دونوں فریق جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں ابھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔

۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کے بعد خطے کی صورتحال مسلسل غیر یقینی رہی ہے۔ اگرچہ ۸؍  اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم آبنائے ہرمز، کویت، بحرین اور خلیجی خطے میں وقفے وقفے سے کشیدگی اور سکیورٹی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کویت اور بحرین میں حملوں اور جوابی کارروائیوں نے ایک بار پھر خدشات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے خامنہ ای سے ملاقات کا عندیہ سفارتی دروازے کھلے رکھنے کی کوشش ہے، لیکن خطے میں جاری تنازعات، جوہری پروگرام پر اختلافات اور باہمی عدم اعتماد کی وجہ سے کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا اب بھی ایک مشکل مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *