۳۰؍ سالہ ابھیجیت دپکے نے پونے سے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سے تعلقاتِ عامہ میں ماسٹرز مکمل کی۔ وہ ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۳ء کے دوران عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا اور انتخابی مہمات سے بھی وابستہ رہے تھے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے گزشتہ چند ہفتوں میں سوشل میڈیا پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کی مہم کا مقصد امتحانی بے ضابطگیوں، بے روزگاری، ادارہ جاتی احتساب اور نوجوانوں کے مسائل کو قومی بحث کا حصہ بنانا ہے۔ حالیہ دنوں میں پارٹی نے تین ترجمان بھی مقرر کیے ہیں، جسے تحریک کو باقاعدہ سیاسی و تنظیمی شکل دینے کی پہلی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کا احتجاج روکنے کیلئے فوری سماعت سے انکار
دہلی ہائی کورٹ نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ درخواست گزار نے ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے معاملے کو فوری طور پر فہرست میں شامل کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب مختلف طلبہ تنظیموں اور بعض سیاسی حلقوں نے اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چھتیس گڑھ کی جماعت جنتا کانگریس چھتیس گڑھ (جے) نے بھی احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے اس تحریک کو مزید سیاسی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
ادھر سی بی ایس ای آن اسکرین مارکنگ (OSM) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے والے طالب علم سارتھک سدھانت نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی تحریکیں صرف سوشل میڈیا کی مقبولیت کے لیے نہیں بلکہ حقیقی اصلاحات کے لیے ہونی چاہئیں۔ انہوں نے دپکے اور ان کے حامیوں پر زور دیا کہ وہ عوامی غصے کو تعمیری اور مؤثر اقدامات میں تبدیل کریں۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیٹ یو جی امتحان، پیپر لیک الزامات، دوبارہ امتحانات اور سی بی ایس ای سے متعلق تنازعات پر حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) اور مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) مختلف معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور طلبہ گروپ مسلسل جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دپکے نے اپنی واپسی سے قبل ایک اور پیغام میں کہا کہ ’’میں اپنی تقدیر کو آئینِ ہند کے حوالے کر رہا ہوں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے لیے ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی شروعات مئی میں سپریم کورٹ کی ایک سماعت کے بعد ہوئی تھی، جس کے بعد اس نے طنزیہ سوشل میڈیا مہم سے آگے بڑھ کر ایک منظم نوجوان تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تنظیم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروڑوں فالوورز موجود ہیں جبکہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر لاکھوں افراد دستخط کر چکے ہیں۔