دہلی پولیس، دہلی فائر سروس اور دیگر امدادی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھانے کے لیے متعدد فائر ٹینڈر روانہ کیے۔ ریسکیو ٹیموں نے ۴۰؍ سے زائد افراد کو عمارت سے نکال کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔ حکام کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے افسر جتیندر کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر عمارت کے نچلے حصے میں قائم ریسٹورنٹ سے شروع ہوئی، تاہم اصل وجہ کا تعین کرنے کے لیے مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آگ سے متعلق حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بعض رپورٹس کے مطابق عمارت میں ہوٹل بھی قائم تھا اور متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ علاقہ طبی مقاصد کے لیے آنے والے غیر ملکیوں کی رہائش کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ اس واقعے پر وزیراعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، اور دیگر سیاسی لیڈروں نے بھی سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی اپیل کی۔ حکام کے مطابق سرچ اور ریسکیو آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔