پاکستان نے فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کو مسترد کر دیا

(اےیوایس)

پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو ابراہیم معاہدے میں شمولیت کا امکان مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک کہ 1967 سے پہلے والی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

جیسا کہ امریکہ-ایران امن معاہدے کے امکانات قریب ہیں تو گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے یہ پیش رفت اسی کے بعد ہوئی ہے۔

ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 2020 میں طے شدہ ابراہم معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت متعدد عرب ریاستوں نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ بعد میں مراکش اور سوڈان اس فریم ورک میں شامل ہو گئے جسے واشنگٹن نے شرقِ اوسط کے حالات معمول پر لانے کے وسیع تر عمل کی بنیاد قرار دیا ہے۔

ڈار نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کے ساتھ واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کی اور ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ پاکستان کو ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، “یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کو ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا ہے اور اسی طرح کی باتیں اس لیے میں یہ واضح کر دوں کہ پاکستان کی مستقل پالیسی ہے کہ یہ اس بات پر قائم رہے گا جب تک فلسطین کو تسلیم نہ کر لیا جائے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر نئی ریاست قائم نہیں ہو جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

نیز کہا، “اس لیے یہ پاکستان کی بیان کردہ خارجہ پالیسی ہے خواہ کوئی بھی حکومت ہو اور کتنے ہی سال گذر جائیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”

اسحاق ڈار کے بیان کردہ مؤقف کو پورے پاکستان میں وسیع سیاسی اتفاق رائے اور عوامی حمایت حاصل ہے۔

اس مسئلے نے اس وقت دوبارہ سر اٹھایا جب ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا کہ مسلم اکثریتی ممالک کو امریکہ-ایران مذاکرات سے منسلک ایک وسیع تر تصفیے کے تحت ابراہم معاہدے کے ایک توسیعی فریم ورک میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی اور کئی دیگر کے نام لیے۔

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور قطر کی قیادت سمیت کئی علاقائی رہنماؤں سے بات کرنے کے بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کے بحران سے متعلق بات چیت میں شامل ممالک کو “بیک وقت” ابراہم معاہدے میں شامل ہونا چاہیے اور اس انتظام کو زیادہ متحد اور اقتصادی طور پر مربوط شرقِ اوسط کی جانب ایک راستہ قرار دیا۔

پاکستان میں لوگ جذباتی طور پر فلسطینیوں کے لیے بہت زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔

پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور مرکزی دھارے کے سیاسی گروپ جامع فلسطینی تصفیے کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی طویل عرصے سے مخالفت کرتے رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *