پاکستان سمیت بیشتر ملکوں میں آج (بروز بدھ) عیدالاضحیٰ منائی جا رہی ہے جبکہ حج کے حوالے سے سعودی عرب میں موجود لاکھوں مسلمان رمی کے لیے منیٰ پہنچ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں نمازِ عید کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے جبکہ ملک کی سلامتی، استحکام اور قیامِ امن کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
صبح کا آغاز مساجد، عیدگاہوں، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید کی ادائی سے ہوا۔ نماز کے بعد فرزندانِ اسلام سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر قوم اور امتِ مسلمہ کو مبارکباد پیش کی۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ عید کی خوشیاں مستحق، یتیم اور محروم افراد کو شامل کئے بغیر ادھوری ہیں، جبکہ سفید پوش اور ضرورت مند افراد کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہیے۔
آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ معاشرے میں محبت، برداشت اور مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جبکہ قانون کا احترام اور ماحول کی صفائی مہذب قوموں کی نشانی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ عیدالاضحیٰ جذبۂ ایثار اور قربانی کی حقیقی روح کو سمجھنے کا پیغام دیتی ہے اور سنتِ ابراہیمی و اطاعتِ الٰہی کی یاد تازہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ مقصد کیلئے جان اور مفادات کی قربانی ایمان کی معراج ہے جبکہ حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت، وفا اور ایمان کی روشن مثال ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداء قوم کا فخر ہیں۔
وزیراعظم نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائے۔
علاوہ ازیں سید عاصم منیر سمیت مسلح افواج کے سربراہان نے بھی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے شہدائے پاکستان اور ان کے اہلخانہ کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی بے مثال قربانیاں ملک کی بنیادوں کو مضبوط بنا رہی ہیں جبکہ پاک افواج امن، خوشحالی اور اتحاد کیلئے دعاگو ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب میں موجود 17 لاکھ سے زائد عازمین حج بھی آج صبح سے پہلے منیٰ میں جمع ہوئے تاکہ رمی کا رکن ادا کریں جو عید الاضحیٰ کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابوق عرفات سے آنے والے حجاج نے منگل کو رات گئے مزدلفہ میں کنکریاں جمع کیں۔
میدان عرفات سے مزدلفہ تک رات بھر کی نقل و حرکت وسیع سکیورٹی، صحت اور ٹرانسپورٹ آپریشنز کے تحت انجام پائی۔
نو ذوالحجہ کو غروب آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ پہنچتے ہیں جو عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع ہے۔ وہ رات یہیں گزارتے ہیں اور رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں۔
اس کے بعد 10 ذوالحجہ یعنی آج حجاج فجر کے بعد دوبارہ منیٰ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہیں، جسے رمی کہا جاتا ہے۔
رمی کے بعد حجاج مکہ مکرمہ واپس جا کر المسجد الحرام میں طوافِ افاضہ کریں گے، یعنی خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی ادا کریں گے۔
منیٰ میں حجاج کی دوبارہ آمد 11 ذوالحجہ کو ہو گی جہاں وہ قیام کریں گے اور تینوں جمرات- جمرہ اولیٰ، وسطیٰ اور عقبہ کو کنکریاں ماریں گے اور یہ عمل تین دن تک جاری رہے گا۔