فیضان کے والد امتیاز احمد شاہ، جو سرکاری اسکول میں استاد ہیں، نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے مئو جنکشن سے ٹرین میں سوار ہونے کے بعد خاندان کو اطلاع دی تھی۔خاندان کے مطابق، جب ٹرین بیلتھرا روڈ پار کر کے سلیم پور اسٹیشن کے قریب پہنچی، تو فیضان نے مبینہ طور پر اپنے والد کو ایک پریشان کن پیغام بھیجا، ’’ابو، جھگڑا ہو گیا ہے… ٹرین میں سب مجھے مار رہے ہیں… میں چھپ کر میسج کر رہا ہوں۔‘‘امتیاز نے کہا کہ انھوں نے فوری جواب دیا اور بیٹے سے کہا کہ اگلے اسٹیشن پر اتر کر انھیں فون کرے۔‘‘لیکن اس کے بعد اس کا فون بند ہو گیا۔تاہم خاندان نے بتایا کہ فیضان سے رابطے کی بار بار کوششیں ناکام رہیں، اور پیغام کے بعد سے اس کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
خاندان کے مطابق، فیضان مبینہ طور پر ٹرین میں سفر کے دوران نامعلوم افراد کے حملے کا نشانہ بنا۔ بعض رپورٹس اور خاندان کے افراد نے الزام لگایا ہے کہ انتہاپسند عناصر ملوث ہو سکتے ہیں، حالانکہ اس دعوے کی پولیس نے سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے خاندان نے گوپال گنج کے تھانہ پھلواریہ میں شکایت درج کرائی ہے۔اسٹیشن ہاؤس آفیسر کندن کمار نے کہا کہ’’ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔خاندان کی جانب سے درج شکایت کی بنیاد پر، مقدمے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔تاہم پولیس نے ابھی تک واقعے کی وجہ یا فیضان کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔جبکہ حکام لاپتہ نوجوان کا سراغ لگانے کے لیے دستیاب تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔