ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے جنگ کے خاتمے کے لیے کئی مسائل پر امریکہ کے ساتھ ایک مفاہمت حاصل کر لی ہے، تاہم ابھی معاہدہ فوری طور پر متوقع نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم زیرِ بحث متعدد مسائل پر ایک نتیجے تک پہنچ چکے ہیں، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کا طے پانا اب فوری طور پر ممکن ہو چکا ہے۔ حالیہ پیش رفت گذشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر اپنے مواقف تبدیل کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہیں اور ہم فی الحال جوہری معاملے کے حوالے سے مذاکرات نہیں کر رہے ہیں۔
بقائی نے اپنی گفتگو میں یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران احتیاط کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جیسے جنگ میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ لبنان پر جارحیت کی روک تھام کی شق اس معاہدے میں شامل ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بقائی نے ایران کی طرف سے ہرمز میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تردید کی اور واضح کیا کہ وہ “بحری خدمات” کے معاوضے وصول کرتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فراہم کردہ خدمات جو کہ بحری خدمات ہیں اور اس کے ساتھ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرہ عمان کے ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کے لیے مخصوص فیسوں کی وصولی کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ایران “ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی کوشش نہیں کر رہا”۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ تیزی سے کسی مفاہمت تک پہنچنے کے امکانات کو مسترد کر دیا تھا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ معاہدے کے لیے کسی جلدی میں نہیں ہیں۔
فوکس نیوز نیٹ ورک نے امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ پیر کے روز معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک قابلِ قبول معاہدہ تیار کرنے کے لیے 7 روز دے رہے ہیں۔
امریکی عہدے دار نے مزید کہا کہ ایران نے اصولی طور پر مفاہمت کے فریم ورک سے اتفاق کیا ہے جبکہ اس کا 95 فی صد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ جوہری ذخائر اور آبنائے ہرمز کے بارے میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے جبکہ اب صرف “تحریری صیاغت” باقی ہے۔