پاکستان : انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور حراست کے اسرائیلی اقدام کی مذمت

(اےیوایس)

پاکستان نے اسرائیلی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کے سینکڑوں کارکنوں کی ایک بار پھر گرفتاری اور انہیں دوران حراست تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ان کے ساتھ انسانیت سے گرا ہوا سلوک کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔ اس سلسلے کا مذمتی بیان جمعرات کے روز جاری کیا گیا ہے۔

ترکیہ سے روانہ ہونے والے اس فلوٹیلا کو پچھلے دنوں اسرائیلی فوج نے کھلے پانیوں سے حراست میں لیا تھا۔ اس فلوٹیلا میں لگ بھگ 50 کشتیاں شامل ہیں۔ جو 430 انسانی حقوق کارکنوں کو لے کر غزہ کی طرف آرہی تھیں تاکہ جنگ زدہ مگر اب تک زیر محاصرہ اہل غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں اور عالمی برادری کی توجہ ان اہل غزہ کی جانب مبذول کرا سکیں۔

اس فلوٹیلا کو گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا ہے۔ عدالہ نامی انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق فلوٹیلا کے ساتھ روانہ ہونے والے بعض افراد اشدود کی بندرگاہ تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں بندرگاہ سے گرفتار کیا گیا۔

بدھ کے روز ان انسانی حقوق کارکنوں کی جانب عالمی ضمیر کی توجہ اس وقت ہوئی جب اسرائیلی داخلی سلامتی کے انتہا پسند وزیر ایتمار بین گویر نے ان زیر حراست انسانی حقوق کارکنوں کی ایسی ویڈیو ‘ایکس’ پر شیئر کی جس میں ان انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا جو عام طور پر غزہ کے قیدی فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کرتی ہے۔

فلوٹیلا پر آنے والوں میں کئی یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی شامل ہیں۔ جن میں فرانس ، اٹلی ، سپین اور دیگر ملک شامل ہیں۔ ان سب کو اسرائیلی فوج نے حراست میں لینے کے بعد ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیے اور انہیں جھک کر اسرائیلی وزیر کے سامنے پڑے رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ارائیلی وزیر بین گویر نے اس ویڈیو میں ساتھ یہ بھی لکھا ‘خوش آمدید ، اسرائیل میں خوش آمدید’ ۔ ویڈیو میں بین گویر کو اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو پر بین الاقوامی سطح پر روایتی انداز کا ایک شور بپا ہوا ہے جو اسرائیل کے اس انسان دشمن رویے کے خلاف بپا ہوا ہے ، مگر توقع کی جاتی ہے کہ یہ محض چند دنوں کا شور ہی رہے گا۔ چونکہ اسرائیل کو اب تک کی انسانی حقوق کے خلاف اس کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود محض ہلکی پھلکی زبانی سرزنش بھی نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے جنگی جرائم کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے مگر امریکہ نے بھی انہیں گرفتار کرنے کی بجائے انہیں کانگریس سے خطاب کا موقع دیا۔ نیز ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ جا کودا۔

پاکستان نے جمعرات کے روزاسی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہم سخت ترین الفاظ میں اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکا جانا مکمل غیر قانونی اقدام ہے۔ نیز انسانی حقوق کارکنوں کو گرفتار کرنا اور ان کے ساتھ انتہائی ذلت آمیز سلوک کرنا اور بھی قابل مذمت ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے انسانی حقوق کے ان زیر حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ پوری طرح رابطے میں ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری بھی ان زیر حراست افراد میں شامل ہے تو اس کی بھی بحفاظت اور باعزت واپسی کی سبیل کی جا سکے۔

اس بیان سے لگتا ہے کہ ابھی کسی پاکستانی کی اسرائیلی حراست میں ہونے کے بارے میں واضح اطلاعات نہیں ہیں۔ ادھر فرانس کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے، اسرائیلی وزیر کی آن لائن جاری کردہ اس بری ویڈیو کو سپین مین بھی غم و غصے کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔

ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کہا یہ ایک خوفناک، شرمناک اور غیر انسانی رویہ ہے جس کا اسرائیل اور اسرائیلی وزیر نے اس ویڈیو میں اظہار کیا ہے۔ الباریس نے کا یہ رد عمل برلن میں موجود ہوتے سامنے آیا ہے۔

الباریس کے مطابق ان کی وزارت خارجہ نے میدرڈ مین اسرائیلی ناظم الامور کو طلب کیا ہے۔ تاکہ اپنے احتجاج کا اظہار کیا جا سکے۔ دریں اثنا ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بھی بین گویر کی طرف سے زیر حراست انسانی حقوق کارکنوں کے خلاف توہین آمیز رویہ اختیار کرنے پر بین گویر کی حرکت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

سانچیز نے ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا ہے ہم کسی کے بھی برے سلوک کو برداشت نہیں کریں گے۔ نیز ہماری ہسپانوی حکومت یورپی یونین کے رکن ممالک سے کہے گی کہ تمام یورپی ملک بین گویر کے داخلے پر پابندی لگائیں۔

آئرش وزیر خارجہ نے بھی اسرائیل کی جانب فلوٹیلا کاررواں کے ساتھیوں کے ساتھ سلوک پر کہا اس ویڈیو کو دیکھ کر مجھے سخت غصہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا فوری طور پر ان غیر قانونی طور پر گرفتار کیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔ فلوٹیلا کے ساتھ دوسرے آئرش شہریوں کے علاوہ آئرش صدر کی بہن بھی موجود ہیں۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی اسرائیلی کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

ترکیہ نے بھی اسرائیلی انتہا پسند وزیر کی طرف سے ان زیر حراست افراد کے ساتھ ویڈیو میں غیر انسانی سلوک پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ خاقان فیضان نے کہا اسرائیلی وزیر بین گویر نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے نیتن یاہو حکومت کا ظالمانہ چہرہ پیش کیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *