کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت کو قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں؛ دیپکے خاندان فکرمند

(اےیوایس)

دیپکے نے ایک پوسٹ میں انہیں سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے دھمکی آمیز پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کئے۔ ان پیغامات میں انہیں کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ بند کرنے کی وارننگ دی گئی اور اس میں ”امریکہ میں بھی مروا دیں گے تجھے“ جیسی دھمکیاں ہیں۔

طنزیہ آن لائن تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کی زبردست مقبولیت نے اس کے بانی ابھیجیت دیپکے کی حفاظت کے بارے میں ان کے والدین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۶ مئی سے شروع ہونے والی یہ تحریک سوشل میڈیا پر مسلسل چھائی ہوئی ہے اور چند ہی دنوں کے اندر انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد ۲ کروڑ ۸ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

مہاراشٹرا کے چھترپتی سمبھاجی نگر کے رہائشی، بھگوان اور انیتا دیپکے نے بتایا کہ سی جے پی کے لانچ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ابھیجیت کی بڑھتی ہوئی شہرت نے انہیں فکرمند کردیا ہے۔ بھگوان دیپکے کے مطابق، خاندان کو ڈر ہے کہ ان کے بیٹے کا سیاسی طنز اور عوامی مسائل پر تنقید ہندوستان واپسی کے بعد ان کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر ہم آج کل کی سیاست کو دیکھیں تو یہ خوف فطری ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے مستقبل کی فکر میں دو راتوں سے سو نہیں سکے۔

انیتا دیپکے نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا خیر و عافیت سے گھر لوٹ آئے اور اپنے کریئر پر توجہ دے۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ سیاست میں داخل ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ خاندان کو سب سے پہلے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ذریعے اس پلیٹ فارم کی مقبولیت کا پتہ چلا۔

ابھیجیت دیپکے کو قتل کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں

دیپکے نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی تحریک کے گرد تنازعہ شدت اختیار کرنے کے بعد اب انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے وہاٹس ایپ پر موصول ہوئے دھمکی آمیز پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کئے۔ ان پیغامات میں انہیں کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ بند کرنے کی وارننگ دی گئی تھی اور اس میں ”امریکہ میں بھی مروا دیں گے تجھے“ جیسی دھمکیاں تھیں۔ واضح رہے کہ دیپکے فی الحال امریکہ میں مقیم ہیں۔ اسکرین شاٹس کے مطابق، نامعلوم نمبر سے میسیج کرنے والے شخص نے ان پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کیلئے بھی دباؤ ڈالا۔ ابھیجیت کی ایک علیحدہ پوسٹ کے مطابق، انہیں موصول ہونے والے پیغامات میں ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

ابھیجیت دیپکے نے ’غیر ملکی فالوورز‘ کے دعووں کو مسترد کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کی بے پناہ مقبولیت اور انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد میں زبردست اضافہ کے بعد یہ الزامات گردش کرنے لگے تھے کہ اس تحریک کو پاکستان، ترکی اور دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں حمایت مل رہی ہے اور اس کے زیادہ تر فالوورز بھی انہی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ غیر ملکی اثر و رسوخ کا دعویٰ کرنے والے اسکرین شاٹس وائرل ہونے کے بعد ابھیجیت دیپکے نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے تحریک کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے اینالیٹکس (اعداد و شمار) شیئر کئے اور بتایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ۷ء۹۴ فیصد فالوورز ہندوستان سے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ”آپ ۹۴ فیصد ہندوستانی نوجوانوں کو پاکستانی کیوں کہہ رہے ہیں؟“

دیپکے کی طرف سے شیئر کئے گئے اسکرین شاٹس کے مطابق، ۷ء۹۴ فیصد فالوورز ہندوستان سے، ایک فیصد امریکہ سے، ۷ء۰ فیصد برطانیہ سے، ۶ء۰ فیصد کنیڈا سے اور ۶ء۰ فیصد متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیپکے نے یہ الزام بھی لگایا کہ انٹرنیٹ پر تیز رفتار ترقی کے بعد لوگ اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کمال مولا مسجد: عدالتی فیصلے کے بعد پہلا جمعہ، مہاآرتی کا انعقاد، گھر میں نماز

کمال مولا مسجد کے تعلق سے عدالتی فیصلے کے بعد پہلے جمعہ کو ہندو گروپوں کی جانب سے مہا آرتی کا انعقاد کیا، جبکہ مسلمانوں نے احتجاجاً گھروں میں جمعہ کی نماز ادا کی۔

دھار کی  بھوجشالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس کے اطراف  تعینات تقریباً۱۸۰۰؍ سیکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں ہندو گروپوں کی طرف سے پہلی مہا آرتی کا انعقاد کیا گیا، جبکہ مسلمان جن کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں نماز پڑھنے کا ان کا حق اب بھی برقرار ہے، نے احتجاج کے طور پر اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کا انتخاب کیا۔جمعہ کی صبح سے ہی کمپلیکس تک جانے والی سڑکوں پر بیریکیڈز لگا دیے گئے تھے، جبکہ آر اے ایف، کیو آر ایف اور ایس ٹی ایف کے اہلکار شہر کے حساس علاقوں میں گشت کر رہے تھے۔ پولیس نے جمعرات کی رات دھار شہر میں مارچ کیا، اور افسران سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے تھے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں اضافی چوکیاں لگائی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق، مہا آرتی اس وقت ہوئی جب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے ہندوؤں کو عبادت اور دیگر مقاصد کے لیے بھوجشالہ کمپلیکس میں غیر محدود رسائی فراہم کر دی ۔ دھار کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے کہا کہ انتظامیہ صرف انہی رسومات کی اجازت دے گی جو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کے تحت دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجکے نمائندگان کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے اور تمام فریقین نے عدالت کی ہدایات پر عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔کمپلیکس کے اندر کا ماحول باہر کے تناؤ سے بالکل مختلف تھا۔ ہندو عقیدت مند اے ایس آئی کے زیرتحفظ یادگار کے نقش و نگار والے پتھر کے محرابوں کے نیچے ننگے پاؤں قطار میں کھڑے تھے، ہنومان چالیسا گا رہے تھے اور دیوی سرسوتی کی آرتی کر رہے تھے۔بعد ازاں ہندو تنظیموں نے جمعہ کی تقریب کو تاریخی اہمیت قرار دیا، ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھوجشالہ میں ۷۲۱؍سالوں میں پہلی جمعہ مہا آرتی تھی۔ واضح رہے کہ۱۵؍ مئی کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے تک، اس تاریخی عمارت میں ۲۰۰۳ء کی اے ایس آئی انتظامات کے تحت عبادت چل رہی تھی، جس کے تحت ہندو منگل اور بسنت پنچمی کو پوجا کر سکتے تھے، جبکہ مسلمان جمعہ کو نماز پڑھ سکتے تھے۔تاہم، ہائی کورٹ نے پچھلے ہفتے کہا کہ متنازعہ عمارت کا مذہبی کردار بھوجشالہ کا ہے جو دیوی سرسوتی کو وقف ایک مندر ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ مقام ایک محفوظ یادگار ہے جس کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

بعد ازاں اس فیصلے نے تاریخی عمارت کی طبعی ساخت پر ہندو فریقین کے نئے مطالبات کو بھی جنم دیا ہے۔ ہندو فرنٹ فار جسٹس سے وابستہ درخواست گزار نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو خط لکھ کر کمپلیکس کے جنوب مشرقی حصے میں ایک بند کمرے کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ یہ اصل مندر ڈھانچے کا حصہ ہے۔جہاں ہندو گروپ اس فیصلے کا جشن منا رہے تھے، وہیں مسلم درخواست گزاروں نے اس حکم کے خلاف علامتی احتجاج کا اعلان کیا جبکہ اس بات پر زور دیا کہ وہ آئینی حدود میں رہیں گے۔ کمال مولا  ویلفیئر سوسائٹی کے صدر اور مسلم فریق کی درخواست گزاروں میں سے ایک عبدالصمد نے کہا کہ معاشرے کے افراد کمپلیکس میں جمع ہونے کے بجائے اپنے گھروں اور آنگنوں میں نماز پڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان سیاہ پٹیاں پہنیں گے، دکانیں بند کریں گے، اور سوشل میڈیا پر نماز کی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کریں گے تاکہ اس احتجاج کو ظاہر کیا جا سکے جسے وہ مسجد کے نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں نے یہ احتجاج باضابطہ طور پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد کیا۔ تاہم جمعہ کی شام تک شہر میں کشیدگی تو تھی لیکن پرسکون رہا، سیکیورٹی فورسیزحساس علاقوں میں تعینات رہیں، جبکہ دونوں فریق سپریم کورٹ میں طویل قانونی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔

A post shared by Arpit Sharma (@iarpitspeaks)

نیٹ (NEET) تنازع پر سی جے پی کی مہم کا آغاز

کاکروچ جنتا پارٹی نے نیٹ یو جی (NEET-UG) پیپر لیک تنازع پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی پہلی بڑی آن لائن مہم کا آغاز کیا ہے۔ ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، دیپکے نے طلبہ اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ”وزیرِ تعلیم کو برطرف کرنے کی“ آن لائن پٹیشن پر دستخط کریں۔ ویڈیو میں دلیل دی گئی ہے کہ بار بار پیپر لیک ہونے، نتائج میں تاخیر اور امتحانی نظام کی ناکامیوں نے تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور ۲۲ لاکھ سے زیادہ امیدواروں کو متاثر کیا ہے۔ پٹیشن پیج کے مطابق، خبر لکھے جانے تک، دو لاکھ ۳۳ ہزار سے زیادہ دستخط ریکارڈ کئے جاچکے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *