’’عدالتی فیصلوں میں شواہد اور حقائق کی جگہ عقیدے پر انحصار تشویشناک ہے‘‘

(اےیوایس)

کمال مولیٰ مسجد کیس کے فیصلے پر سی پی ایم اور ایم ایم کے کی تنقید، ملک کے سیکولر آئینی نظام کیلئے سنگین خطرہ قراردیا، عدلیہ سے آئینی اخلاقیات اور سیکولرزم کی بالادستی قائم رکھنے کی اپیل کی۔

سی پی ایم اور تمل ناڈو کی منی تھانیا مکل کچی (ایم ایم کے) نے’’بھوج شالا‘‘ کمال مولیٰ مسجد تنازع میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عدالتیں اب’’ثبوت کے بجائے عقیدہ‘‘ کی بنیاد پر فیصلے سنا رہی ہیں۔ انہوں  نے اسے ہندوستان کے سیکولر آئینی نظام کے مستقبل کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

سی پی ایم نے کمال مولیٰ مسجد کیس میں  ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’’افسوسناک‘‘قراردیا۔ اس نے کہا کہ یہ فیصلہ بابری مسجد-رام جنم بھومی کیس میں اپنائی گئی منطق سے مشابہت رکھتا ہے جس میں  عقیدے کو قانونی اور تاریخی اصولوں پر فوقیت دی گئی تھی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ عدلیہ تاریخی اور مذہبی دعوؤں کو پلیس آف ورشپ ایکٹ ۹۱ء میں فراہم کردہ ضمانت پر ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اہم قانون تاریخی عبادتگاہوں  پر دعوؤں   کے سلسلے پر قدغن لگانے کیلئے بناتھا۔ اس کے تحت بابری مسجد کے علاوہ کسی بھی عبادتگاہ کی مذہبی حیثیت جو۱۴؍ اگست ۱۹۹۴۷ء کو تھی اسے تبدیل نہیں  کیا جاسکتا۔ سی پی ایم نے تشویش کا اظہار کیا کہ ہائی کورٹ کافیصلہ مذکورہ قانون کی روح اور متن کے منافی ہے جو فرقہ واریت کو ہوا دے سکتا ہے۔ پارٹی نے فرقہ پرستی کو ’’جمہوری زندگی اور قومی یکجہتی کیلئے سنگین خطرہ‘‘ قرار دیا اور عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ آئینی اخلاقیات اور سیکولرزم کو برقرار رکھے نیزعقیدہ پر مبنی دعوؤں کو عدالتی فیصلوں کی بنیاد نہ بننے دے۔

’ایم ایم کے‘ کے صدر اور رکن اسمبلی ایم ایچ جواہر اللہ نے بھی متنبہ کیا کہ اگر تاریخی اور آثارِ قدیمہ کی تشریحات کو منتخب انداز میں استعمال کر کے پرانی عبادت گاہوں کی حیثیت تبدیل کی جانے لگی تو تنازعات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بابری مسجد کیس کو دیگر تنازعات کے حل کیلئے ایک نمونے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر بھی فکرمندی کا اظہار کیا اور یاد دہانی کرائی کہ سپریم کورٹ نے خود اس مقدمہ کو ’’منفرد‘‘ اور’’غیر معمولی‘‘قرار دیا تھا۔ انہوں  نے کمال مولیٰ مسجد کیلئے متبادل جگہ قبول کرنے کے امکانات کو مسترد کرتے کہا کہ آئینی حقوق اور طویل عرصے سے جاری مذہبی روایات کو زمین کے تبادلوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں جماعتوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے فیصلے سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ آئینی سیکولرزم اور عبادت گاہوں کے قانون کی بالادستی کو بحال کرے۔

۱۰؍ سال میں ایک لاکھ سرکاری اسکول بند، ۲۶ء۲؍ کروڑ بچوں کا داخلہ کم: رپورٹ

نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان ہندوستان میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہو گئے، جبکہ اسی عرصے میں اسکولی بچوں کے داخلے میں ۲۶ء۲؍ کروڑ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں کے انضمام، آبادیاتی تبدیلیوں، کم ہوتی شرحِ پیدائش اور ثانوی سطح پر بڑھتے ڈراپ آؤٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

نیتی آیوگ کی ایک نئی رپورٹ نے ہندوستانی تعلیمی نظام کے بارے میں تشویشناک تصویر پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہو گئے، جبکہ اسکولوں میں بچوں کے داخلے میں ۲۶ء۲؍ کروڑ کی بڑی کمی درج کی گئی۔ رپورٹ، جس کا عنوانSchool Education System in India: Temporal Analysis and Policy Roadmap for Quality Enhancement ہے، کے مطابق ۲۰۱۴ء کے مالی سال میں ہندوستان بھر میں اسکولوں میں داخل طلبہ کی تعداد ۹۵ء۲۶؍ کروڑ تھی، جو ۲۰۲۴ء کے مالی سال تک کم ہو کر ۶۹ء۲۴؍ کروڑ رہ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران سرکاری اسکولوں کی تعداد ۰۷ء۱۱؍ لاکھ سے گھٹ کر ۱۳ء۱۰؍  لاکھ رہ گئی، یعنی تقریباً ۹۴؍ ہزار اسکول ختم یا ضم ہو گئے۔ اسی عرصے میں سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کی تعداد بھی ۸۳؍ ہزار سے کم ہو کر ۷۹؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس نجی اسکولوں کی تعداد ۸۸ء۲؍ لاکھ سے بڑھ کر ۳۹ء۳؍ لاکھ ہو گئی، جسے ماہرین  ’’تعلیم کی نجکاری‘‘ کے بڑھتے رجحان سے جوڑ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومتوں کی جانب سے ’’اسکول کنسولیڈیشن‘‘ یا کم طلبہ والے اسکولوں کو قریبی اداروں میں ضم کرنے کی پالیسی اس تبدیلی کی بڑی وجہ بنی۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے وسائل کے ’’بہتر استعمال‘‘ کے نام پر ہزاروں چھوٹے اسکول بند کیے۔ تعلیمی کارکن اور رائٹ ٹو ایجوکیشن فورم کے کوآرڈینیٹر رنجن مترا نے اس پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسکولوں کے انضمام کے بعد کئی بچوں نے تعلیم ہی چھوڑ دی کیونکہ ان کے آس پاس کوئی اسکول باقی نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صرف اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں تقریباً ۴۰؍ 0 ہزار اسکول ضم کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی دیہی اور غریب خاندانوں کے بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے، کیونکہ دور دراز اسکولوں تک پہنچنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں سب سے زیادہ تشویش ثانوی تعلیم یعنی نویں اور دسویں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح پر ظاہر کی گئی، جہاں یہ شرح ۵ء۱۱؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ صرف ۳ء۰؍ فیصد رہا، جبکہ اپر پرائمری مرحلے میں یہ ۵ء۳؍ فیصد تھا۔ نیتی آیوگ کے مطابق اپر پرائمری سے سیکنڈری مرحلے میں منتقلی کی شرح ۲۰۱۴ء میں ۵۸ء۹۱؍ فیصد تھی، جو ۲۰۲۴ء میں کم ہو کر ۶ء۸۶؍ فیصد رہ گئی۔ ریاستی سطح پر کیرالا اور پدوچیری نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں منتقلی کی شرح تقریباً ۶ء۹۹؍ فیصد رہی۔ دوسری جانب میگھالیہ، جھارکھنڈ، بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش جیسے علاقوں میں صورتحال کافی خراب پائی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ثانوی سطح کے طلبہ بنیادی ریاضی تک میں مشکلات کا شکار ہیں۔ نویں کے طلبہ فیصد، کسر، تناسب اور الجبرا جیسے بنیادی تصورات سمجھنے میں جدوجہد کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں سیکھنے کے خسارے دور نہیں کیے جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق’’طلبہ جیسے جیسے اگلی جماعتوں میں جا رہے ہیں، ابتدائی تعلیمی کمزوریاں ان کے ساتھ منتقل ہو رہی ہیں۔‘‘ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو ہندوستان کے لیے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت ۲۰۳۰ء تک ’’سب کے لیے معیاری تعلیم‘‘ کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تعلیمی حلقوں میں یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ آیا ’’وسائل کی بچت‘‘ کے نام پر اسکول بند کرنا واقعی مؤثر حکمت عملی ہے یا یہ دیہی اور غریب بچوں کو تعلیم سے دور دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *