امریکہ چین کا تعلقات میں استحکام اور تعاون پر اتفاق
واضح ہوکہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جمعرات کی صبح امریکہ اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس کا آغاز ہوا، جہاں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گریٹ پیپل ہال میں ملاقات کی۔ اجلاس کے آغاز پر شی جن پنگ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام اور مشترکہ کامیابی کے لیے ایک نیا راستہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اور بیجنگ مل کر بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔شی جن پنگ نے امریکی کاروباری شخصیات کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ چین کے دروازے دنیا کیلئے مزید وسیع انداز میں کھلیں گے اور امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈی میں روشن مواقع موجود ہیں۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے امریکہ کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط عالمی معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب وہائٹ ہائوس کےمطابق امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔بیجنگ میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے صدور نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔ دریں اثناءچینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں نپٹایا گیا تو چین اور امریکہ کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔چین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین۔امریکہ تعلقات میں سب سے اہم معاملہ بن چکا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک آپس میں ٹکرا سکتے ہیں۔بیجنگ طویل عرصے سے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا رہا ہے، جبکہ چین نے بدھ کے روز ایک بار پھر تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا تھا۔