ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل کا بنگلہ منہدم کیا گیا

(اےیوایس)

نداخان کو پناہ دینے کی سزا، کارپوریٹر کے اہل خانہ نے میونسپل عملے پر پھول برسا کر استقبال کیا اور ’ انصاف کے دہرے پیمانے ‘ پر داد دی

بالآخر اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے مجلس اتحاد المسلین کے کارپوریٹر متین پٹیل کے بنگلے اور دکانوں کو منہدم کر دیا۔ یاد رہے کہ متین پٹیل پر الزام ہے کہ انہوں نے ناسک ٹی سی ایس معاملے کی مفرور ملزمہ ( اب گرفتار)کو اپنے بنگلے میں پناہ دی تھی۔ حالانکہ میونسپل کارپوریشن کی کارروائی اور بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رروائی کا ندا خان کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ متین پٹیل کارپوریشن نے ان تعمیرات کے تعلق سے پہلے ہی نوٹس دیا تھا۔

 اطلاع کےمطابق میونسپل کارپوریشن نے ندا خان کی گرفتاری کے بعد متین پٹیل کے نام نوٹس جاری کیا تھا کہ اورنگ آباد کے نرے گائوں میں واقع ان کی کوثر پارک نامی عمارت قریب ہی موجود ۲؍ دکانیں غیر قانونی ہیں۔ متین پٹیل نے اس نوٹس کا جواب دینے کے بجائے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے اس معاملے میں میونسپل کمشنر کے نام نوٹس جاری کیا کہ وہ اس عرضداشت پر جواب داخل کرے۔ میونسپل کارپوریشن کے وکیل سمبھاجی ٹوپے کاکہنا تھا کہ ’’ متین پٹیل نے عدالت میں جو عرضی داخل کی ہے، اس کے ساتھ انہوں نے کچھ کاغذات بھی جمع کروائے ہیں لیکن ان کاغذات سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس زمین پر بنگلہ اور دکانیں بنائی گئی ہیں ، وہ ان کی ملکیت ہے لیکن اس زمین پر تعمیرات کیلئے میونسپل کارپوریشن سے  جو اجازت حاصل کرنی چاہئے وہ انہوں نے نہیں لی ہے۔ اس لئے کارپوریشن کی کارروائی غلط نہیں ہے۔‘‘ ٹوپے نے کہا ’’ چونکہ عدالت نے اس معاملے میں میونسپل کارپوریشن کو صرف نوٹس جاری کیا ہے، متین پٹیل کی غیر قانونی تعمیر کو منہدم کرنے پر اسٹے آرڈر نہیں کیا ہے اس لئے میونسپل کارپوریشن انہدامی کارروائی کر سکتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کا عملہ بدھ کے روز صبح سویرے ( تقریباً ساڑھے ۶؍ بجے) ہی نرے گائوں پہنچا اور اس نے متین پٹیل کے بنگلے کوثر پارک اور ان ۲؍ دکانوں کو منہدم کر دیا جنہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہی وہ کوثر پارک بنگلہ ہے جہاں مبینہ طور پر ناسک ٹی سی ایس معاملے کی ملزمہ ندا خان نے پنا ہ لے رکھی تھی۔
متین پٹیل کے اہل خانہ نے پھول برسائے
صبح جب میونسپل کارپوریشن کا عملہ نرے گائوں پہنچا تو متین پٹیل کے اہل خانہ نے ان کا استقبال پھولوں سے کیا۔ افسران نے انہیں ایسا کرنے سے روکا لیکن ان کا کہنا تھا کہ’’ ہم آپ کے انصاف کے اس دہرے پیمانے کی داد دیتے ہیں، اسلئے آپ کی گلپوشی کر رہے ہیں۔‘‘ اس دوران گھر کی خواتین نے چھت پر سے بھی میونسپل عملے پر پھول برسائے۔
’’ اس سے عالیشان بنگلہ بنائیں گے ‘‘
منگل کے روز متین پٹیل کےبنگلے پر میونسپل کارپوریشن کا نوٹس چسپاں کیا گیا ۔ اسی رات ایم آئی ایم کے ریاستی صدر امتیاز جلیل پارٹی کے ۳۴؍ کارپوریٹروں کے ساتھ نرے گائوں پہنچے۔ وہاں انہوں نے اعلان کیا کہ کارپوریشن اگر اس عمارت کو گرا دیتا ہے تو ہم اس سے عالیشان عمارت اس زمین پر تعمیر کرکے دکھائیں گے۔ میں زبان دیتا ہوں کہ پورا ہندوستان دیکھے گا کہ ہم اسی زمین پر اور عمدہ عمارت تعمیر کریں گے۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’ کیا ہمارے لئے قانون الگ ہے ؟ اور دوسروں کیلئے الگ ہے؟ اورنگ آباد میں بڑی تعداد میں بی جے پی لیڈروں کی غیر قانونی تعمیرات ہے۔ ان پر کارروائی کیوں نہیں ی جاتی؟ ‘‘  انہوں نے کہا ’’ یہ وقت ہے کہ ہمیں مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہنا ہوگا ورنہ کل کوئی مظلوموں کیلئے کھڑا نہیں رہے گا۔ ‘‘

’’ندا خان کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا‘‘

اورنگ آباد میں اسدالدین اویسی کی پریس کانفرنس ، کہا ’’ صرف الزام لگا دینے سے کوئی قصوروار نہیں ہو جاتا‘‘ میڈیا ٹرائل پر تنقید کی۔

Asaduddin Owaisi addressing the media, Imtiaz Jalil is also seen. Photo: INN

اسدالدین اویسی میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، امتیاز جلیل بھی نظر آ رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
 ایک روز قبل ٹی سی ایس معاملے کی مبینہ ملزمہ ندا خان کو پولیس نے اورنگ آباد کے نرے گائوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شیوسینا (شندے) سے تعلق رکھنے والے اورنگ آباد کے نگراں وزیر سنجے شرساٹ نے الزام لگایا تھا کہ مجلس اتحاد المسلمین  نداخان کی مدد کر رہی تھی اس لئے مجلس کے ریاستی صدر امتیاز جلیل کو بھی اس معاملے میں ملزم بنایا جائے۔ اسی بات کا جواب دینے کیلئے مجلس کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے خود اورنگ آباد پہنچ کر پریس کانفرنس منعقد کی ۔ انہوں نے کہا ’’ ندا خان کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا۔ صرف الزام لگادینے سے کوئی قصور وار نہیںہو جاتا۔‘‘اسدالدین اویسی نے میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا ’’ ندا خان پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے گھر سے برقع ملا ہے اور حضرت محمد ؐ سے متعلق ایک کتاب ملی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا ’’برقع ہمارے ملک میں کب سے غیر قانونی ہو گیا؟ اور کسی بھی مسلمان کے گھر سے حضرت محمد ؐ سے متعلق کتاب تو ملے گی ہی۔ ‘‘  انہوں نے کہا ’ ’ اس بچی پر عائد الزامات کو وہ خود ہی عدالت میں غلط ثابت کرے گی۔ اسی طرح متین پٹیل کو بھی عدالت کے حکم سے پہلے ہی میڈیا ٹرائل میں قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ وہ بھی خود کو بے گناہ ثابت کر دیں گے۔‘‘  اسدالدین اویسی سے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ نوک جھونک بھی ہوئی۔ انہوں نے میڈیا ہی سے سوال کیاکہ ’’ندا خان کو ایم آئی ایم نے چھپایا تھا اس کا کیا ثبوت آپ کے پاس ہے؟ کسی ملزم کی طرف سے بولنا یا قانونی عمل پر تبصرہ رکرنا کسی گناہ گار کی مدد کرنا کیسے ہو گیا؟ کیا صرف ایک طبقے کو یا ایک پارٹی کو بدنام کرنے کیلئے یہ میڈیا ٹرائل جاری نہیں ہے؟ برقع پہننے پر شبہ ظاہر کرنا کون سا عدالتی نظام ہے؟  ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ہی ندا خان کا تبادلہ ہو گیا تھا پھر اسے فرار کیسے قرار دیا جار ہا ہے؟

اس موقع پر ایم آئی ایم سربراہ نے وندے ماترم کے تعلق سے بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا ’’ رابندرناتھ ٹیگور نے سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ وندے ماترم گیت میں ماں درگا کی تعریفیں کی گئی ہیں اس لئے مسلمان اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ‘‘ اویسی نے کہا ’’ ہمارا بھی وندے ماترم کے تعلق سے یہی موقف ہے جو میں پارلیمنٹ میں بھی بیان کیا ہے اور وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسدالدین اویسی نے رابندر ناتھ ٹیگور کے خط کے اقتباسات بھی میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے کہا آنند مٹھ نامی ناول میں مسلمانوں کے خلاف کئی قابل اعتراض باتیں درج ہیں۔ اسی کتاب میں وندے ماترم بھی شامل ہے۔

ندا خان کی ماں کو ملاقات کی اجازت 
نداخان کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ عدالت نے ۱۱؍ مئی تک اسے پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ ندا کے وکیل نے عدالت کو عرضی دی تھی کہ چونکہ ندا اس وقت حاملہ ہے اس لئے پولیس تحویل میں ہونے کے باوجود انسانی بنیادوں پر ندا کی ماں کو اس سے ملاقات کرنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے اس عرضی کو قبول کر لیا اور اس کی ماں کو صبح اور شام لاک اپ میں جا کر ملاقات کی اجازت دی ہے۔یاد رہے کہ ندا خان نے حاملہ ہونے ہی کی بنیاد پر عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی عرضی داخل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *