اطلاع کےمطابق میونسپل کارپوریشن نے ندا خان کی گرفتاری کے بعد متین پٹیل کے نام نوٹس جاری کیا تھا کہ اورنگ آباد کے نرے گائوں میں واقع ان کی کوثر پارک نامی عمارت قریب ہی موجود ۲؍ دکانیں غیر قانونی ہیں۔ متین پٹیل نے اس نوٹس کا جواب دینے کے بجائے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے اس معاملے میں میونسپل کمشنر کے نام نوٹس جاری کیا کہ وہ اس عرضداشت پر جواب داخل کرے۔ میونسپل کارپوریشن کے وکیل سمبھاجی ٹوپے کاکہنا تھا کہ ’’ متین پٹیل نے عدالت میں جو عرضی داخل کی ہے، اس کے ساتھ انہوں نے کچھ کاغذات بھی جمع کروائے ہیں لیکن ان کاغذات سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس زمین پر بنگلہ اور دکانیں بنائی گئی ہیں ، وہ ان کی ملکیت ہے لیکن اس زمین پر تعمیرات کیلئے میونسپل کارپوریشن سے جو اجازت حاصل کرنی چاہئے وہ انہوں نے نہیں لی ہے۔ اس لئے کارپوریشن کی کارروائی غلط نہیں ہے۔‘‘ ٹوپے نے کہا ’’ چونکہ عدالت نے اس معاملے میں میونسپل کارپوریشن کو صرف نوٹس جاری کیا ہے، متین پٹیل کی غیر قانونی تعمیر کو منہدم کرنے پر اسٹے آرڈر نہیں کیا ہے اس لئے میونسپل کارپوریشن انہدامی کارروائی کر سکتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کا عملہ بدھ کے روز صبح سویرے ( تقریباً ساڑھے ۶؍ بجے) ہی نرے گائوں پہنچا اور اس نے متین پٹیل کے بنگلے کوثر پارک اور ان ۲؍ دکانوں کو منہدم کر دیا جنہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہی وہ کوثر پارک بنگلہ ہے جہاں مبینہ طور پر ناسک ٹی سی ایس معاملے کی ملزمہ ندا خان نے پنا ہ لے رکھی تھی۔
متین پٹیل کے اہل خانہ نے پھول برسائے
صبح جب میونسپل کارپوریشن کا عملہ نرے گائوں پہنچا تو متین پٹیل کے اہل خانہ نے ان کا استقبال پھولوں سے کیا۔ افسران نے انہیں ایسا کرنے سے روکا لیکن ان کا کہنا تھا کہ’’ ہم آپ کے انصاف کے اس دہرے پیمانے کی داد دیتے ہیں، اسلئے آپ کی گلپوشی کر رہے ہیں۔‘‘ اس دوران گھر کی خواتین نے چھت پر سے بھی میونسپل عملے پر پھول برسائے۔
’’ اس سے عالیشان بنگلہ بنائیں گے ‘‘
منگل کے روز متین پٹیل کےبنگلے پر میونسپل کارپوریشن کا نوٹس چسپاں کیا گیا ۔ اسی رات ایم آئی ایم کے ریاستی صدر امتیاز جلیل پارٹی کے ۳۴؍ کارپوریٹروں کے ساتھ نرے گائوں پہنچے۔ وہاں انہوں نے اعلان کیا کہ کارپوریشن اگر اس عمارت کو گرا دیتا ہے تو ہم اس سے عالیشان عمارت اس زمین پر تعمیر کرکے دکھائیں گے۔ میں زبان دیتا ہوں کہ پورا ہندوستان دیکھے گا کہ ہم اسی زمین پر اور عمدہ عمارت تعمیر کریں گے۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’ کیا ہمارے لئے قانون الگ ہے ؟ اور دوسروں کیلئے الگ ہے؟ اورنگ آباد میں بڑی تعداد میں بی جے پی لیڈروں کی غیر قانونی تعمیرات ہے۔ ان پر کارروائی کیوں نہیں ی جاتی؟ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ یہ وقت ہے کہ ہمیں مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہنا ہوگا ورنہ کل کوئی مظلوموں کیلئے کھڑا نہیں رہے گا۔ ‘‘
’’ندا خان کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا‘‘
اس موقع پر ایم آئی ایم سربراہ نے وندے ماترم کے تعلق سے بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا ’’ رابندرناتھ ٹیگور نے سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ وندے ماترم گیت میں ماں درگا کی تعریفیں کی گئی ہیں اس لئے مسلمان اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ‘‘ اویسی نے کہا ’’ ہمارا بھی وندے ماترم کے تعلق سے یہی موقف ہے جو میں پارلیمنٹ میں بھی بیان کیا ہے اور وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسدالدین اویسی نے رابندر ناتھ ٹیگور کے خط کے اقتباسات بھی میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے کہا آنند مٹھ نامی ناول میں مسلمانوں کے خلاف کئی قابل اعتراض باتیں درج ہیں۔ اسی کتاب میں وندے ماترم بھی شامل ہے۔
ندا خان کی ماں کو ملاقات کی اجازت
نداخان کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ عدالت نے ۱۱؍ مئی تک اسے پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ ندا کے وکیل نے عدالت کو عرضی دی تھی کہ چونکہ ندا اس وقت حاملہ ہے اس لئے پولیس تحویل میں ہونے کے باوجود انسانی بنیادوں پر ندا کی ماں کو اس سے ملاقات کرنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے اس عرضی کو قبول کر لیا اور اس کی ماں کو صبح اور شام لاک اپ میں جا کر ملاقات کی اجازت دی ہے۔یاد رہے کہ ندا خان نے حاملہ ہونے ہی کی بنیاد پر عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی عرضی داخل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔