امریکی کمیشن:ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں پر ظلم کا الزام، پابندیوں کا مطالبہ

(اےیوایس)

امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کے کارکن راقب حمید نائیک نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر، جبری بے دخلیوں اور مسماری مہمات پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی لیڈروں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کے محقق راقب حمید نائیک نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سامنے ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ ذاتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ ظلم و ستم، نفرت انگیز مہمات اور ریاستی سطح پر امتیازی پالیسیوں کے حوالے سے تفصیلی گواہی دی ہے۔ اپنی گواہی میں نائیک نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ’’اعلیٰ سیاسی سرپرستی‘‘ حاصل ہے اور یہ مختلف ریاستی اداروں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے نیٹ ورک کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منظم جبر ’’بیوروکریسی میں سرایت شدہ، قانون میں ضابطہ بند، مکمل استثنیٰ سے محفوظ اور مسلسل زیادہ بے رحم‘‘ ہوتا جا رہا ہے۔

نائیک، جو Central SOC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں، نے اپنی گواہی میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما سمیت کئی لیڈروں کے بیانات اور پالیسیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی سخت گیر ہندو قوم پرستانہ سیاست اور مسلم مخالف بیانات کے لیے مشہور ہیں، جبکہ آسام میں ہیمنت بسوا شرما کی حکومت پر بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی بے دخلی اور املاک کی مسماری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ نائیک نے کمیشن کو بتایا کہ آسام میں ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان کم از کم ۳۳؍ جبری بے دخلی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ۲۲؍ ہزار سے زائد مکانات اور ڈھانچے مسمار کیے گئے اور تقریباً ۳؍ لاکھ خاندان متاثر ہوئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی اندرونی بے گھر آبادی والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔‘‘ گواہی میں یہ بھی کہا گیا کہ ۲۰۲۵ء میں ۲۱؍ ہندوستانی ریاستوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ۱۳۱۸؍  واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں ۹۷؍ فیصد زیادہ ہیں۔نائیک نے دعویٰ کیا کہ عوامی اجتماعات میں اقلیتوں کو ’’دیمک‘‘، ’’سانپ‘‘، ’’کیڑے‘‘ اور ’’سور‘‘ جیسے الفاظ سے پکارا گیا، جبکہ بعض ہندو انتہا پسند گروہوں کو تلواروں، چاقوؤں اور آتشیں اسلحے کی تربیت دی گئی۔
انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی رجسٹر برائے شہریات (NRC) اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ ان اقدامات کے ذریعے لاکھوں مسلم ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ نائیک نے اپنی گواہی میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسلمانوں کی املاک کی مسماری میں مختلف تعمیراتی کمپنیوں کی مشینری استعمال ہو رہی ہے، جن میں JCB، Caterpillar، Tata، Mahindra اور Hyundai شامل ہیں۔ انہوں نے امریکی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ان کمپنیوں کے کردار کی تحقیقات کی جائیں اور انہیں انسانی حقوق سے متعلق ’’ڈیو ڈیلیجنس‘‘ اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔

گواہی میں گئو رکشکوں کے گروہوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن کے بارے میں نائیک نے کہا کہ وہ مختلف ریاستوں میں مویشی لے جانے والے مسلم ڈرائیوروں پر حملے کرتے ہیں، اور ان حملوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پھیلائی جاتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برسوں میں ایسے ۴؍ ہزار سے زیادہ ویڈیوز دستاویزی شکل میں جمع کیے گئے ہیں۔ عیسائیوں کے حوالے سے نائیک نے کہا کہ انہیں گرجا گھروں کی بندش، پادریوں پر حملوں، تدفین کے حقوق سے محرومی اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہوں نے United Christian Forum کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۲۰۱۴ء کے مقابلے میں ۲۰۲۴ء تک عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ۵۵۵؍  فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نائیک نے اپنی گواہی میں فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی الزام لگایا کہ وہ نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کو پھیلانے میں ’’مرکزی انفراسٹرکچر‘‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہندوستانی حکومت بیرونِ ملک ناقدین اور کارکنوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ایکس کے ذریعے ایک سرکاری نوٹس موصول ہوا جس میں ان کے جی پی ایس لوکیشن ڈیٹا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آخر میں نائیک نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہندوستان کو ’’خاص تشویش والے ملک‘‘ (CPC) کے طور پر نامزد کیا جائے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS)، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں اور بعض ہندوستانی سیاست دانوں کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیاں عائد کی جائیں۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) حکومت نے بدھ کو آسانی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر اپنی اکثریت ثابت کر دی۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) حکومت نے بدھ کے روز۲۳۴؍ رکنی اسمبلی میں اتحادی جماعتوں اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکینِ اسمبلی کے تعاون سے آسانی سے اعتماد کا ووٹ جیت کر اپنی اکثریت ثابت کر دی۔وجے کو یہ کامیابی اس وقت ملی جب ۵۹؍ اراکین پر مشتمل اہم اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی اتحادی چار رکنی پٹالی مکل کچی (ڈی ایم کے) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

وجے کی جانب سے اپنی حکومت پر اعتماد کے اظہار کی قرارداد پیش کرنے اور مختلف جماعتوں کے قائدین کے خطاب کے بعد قرارداد پر ووٹنگ کرائی گئی۔ اگرچہ دو متبادل موجود تھے، لیکن اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر نے وائس ووٹ کے بجائے حکومت کی حمایت کرنے والوں کی گنتی کرنے کا انتخاب کیا۔ایوان کے ۲۳۲؍ اراکین میں سے۱۷۱؍ اراکین موجود تھے۔  وجے نے ایک نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا اور مدراس ہائی کورٹ نے ٹی وی کے کے ایک ایم ایل اے کو اعتماد کے ووٹ میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ ایوان میں وجے نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین سمیت ۱۴۴؍اراکین کی حمایت کے ساتھ آسانی سے فلور ٹیسٹ جیت لیا، جبکہ اس کی مخالفت میں ۲۲؍ ووٹ پڑے اور پانچ اراکین غیر جانبدار رہے۔

قرارداد کی حمایت کرنے والے ۱۴۴؍ اراکینِ اسمبلی میں ٹی وی کے کے ۱۰۴؍ اراکین (اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور عدالت کی طرف سے روکے گئے ایک رکن کے علاوہ)، پانچ حمایتی جماعتوں کے ۱۳؍اراکین، اے ایم ایم کے کا ایک اور بقیہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین شامل تھے۔
وجے کی قیادت والی چار دن پرانی حکومت کے لیے یہ پہلی اور شاندار جیت ہے، جن کی پارٹی ۱۰۸؍ اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی لیکن اکثریت سے پیچھے تھی۔ گورنر آر وی آرلیکر کی جانب سے حکومت بنانے کی دعوت دیے جانے کے بعد، انہوں نے ہدایات کے مطابق مطلوبہ تعداد جمع کر کے اپنی طاقت ثابت کی۔وجے کے ذریعے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد، کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) سمیت حمایتی جماعتوں کے قائدین نے وزیر اعلیٰ کے حق میں بولتے ہوئے اپنی حمایت کا یقین دلایا تاکہ بی جے پی کو دور رکھا جا سکے۔

اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والے اتحاد کے حلیف اے ایم ایم کے کے نکالے گئے واحد رکنِ اسمبلی کامراج نے کچھ رکاوٹوں کے باوجود وجے کو اپنی حمایت دینے کا عہد کیا۔ اس کے بعد اتحادی جماعت پی ایم کے کی لیڈر سومیا انبو منی نے وزیر اعلیٰ کے بعض فیصلوں، خصوصاً دو ہفتوں میں ریاستی ملکیت کی ۷۱۷؍ شراب دکانیں بند کرنے کے حکم، کی ستائش کی اور اعلان کیا کہ پی ایم کے کے چار اراکین ووٹنگ سے دور رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *