ایران نے خبردار کیا ہے کہ دوبارہ حملے کی صورت میں وہ یورینیم افزودگی 90 فیصد تک بڑھا دے گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ، بنجامن نیتن یاہو اور امریکی حکام کے بیانات کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے
ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد یورینیم افزودگی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو تہران اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران پہلے ہی 60 فیصد تک یورینیم افزودگی کر چکا ہے، جو ویپن گریڈ کے کافی قریب سمجھی جاتی ہے۔ ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران اعلیٰ درجے کی افزودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس پر مغربی ممالک مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی ایسے جوہری مقامات موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر نکالنا ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کام کیسے کیا جائے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’اندر جا کر اسے باہر نکالنا ہوگا۔‘