پرواز میں جے شری رام کے نعرے لگائے گئے، مہوا موئترا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا
موئترا نے الزام لگایا کہ ’’چار سے چھ افراد‘‘ پر مشتمل ایک گروپ نے انہیں فلائٹ میں پہچاننے کے بعد سیاسی نعرے بازی شروع کی اور طیارے کے اترنے کے بعد بھی صورتحال جاری رہی، جب مسافر ابھی جہاز سے نہیں اترے تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو ’’شہری غصہ‘‘ کے بجائے ’’ہراسانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بند طیارے کے اندر ان کی حفاظت متاثر ہوئی۔ اپنی باضابطہ شکایت میں، جو انہوں نے ڈی جی سی اے، مرکزی وزیر شہری ہوا بازی اور انڈیگو حکام کو بھیجی، موئترا نے لکھا کہ انہیں ایک بند طیارے میں زبانی طور پر نشانہ بنایا گیا جہاں ان کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔ شکایت کے مطابق، مبینہ طور پر مسافروں نے سیاسی نعرے لگائے، ان اور ان کی جماعت کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، موبائل فون سے ویڈیوز ریکارڈ کئے اور دوسرے مسافروں کو بھی اس رویے میں شامل ہونے پر اکسانے کی کوشش کی۔
موئترا نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ ’’پہلے سے منصوبہ بند‘‘ معلوم ہوتا تھا تاکہ ویڈیوز کو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کیبن عملہ سول ایوی ایشن کے قواعد کے تحت ضروری کارروائی کرنے میں ناکام رہا اور ’’خاموش تماشائی‘‘ بنا رہا۔ ٹی ایم سی ایم پی نے مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کی شناخت کی جائے، فلائٹ کی سی سی ٹی وی اور دیگر ریکارڈنگ محفوظ رکھی جائے اور مبینہ ذمہ داروں کو قومی نو فلائی لسٹ میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے ڈیوٹی میں مبینہ غفلت پر کیبن عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ اپنی شکایت میں موئترا نے سابقہ نو فلائی مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ہی اصول موجودہ کیس میں بھی لاگو ہونے چاہئیں۔
واقعے پر اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ محمد جاوید نے کہا کہ ’’طیارہ کوئی سیاسی ریلی نہیں ہے‘‘ اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ ملک گزشتہ دہائی میں یہاں تک پہنچ گیا ہے۔‘‘ جبکہ عمران پرتاپ گڑھی نے سوال اٹھایا کہ کیا ہوائی سفر بھی اب ’’ٹرین کی طرح غیر محفوظ‘‘ ہو جائے گا۔ سنجے سنگھ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی پر سخت تنقید کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں سیاسی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی ۲۹۴؍ نشستوں میں سے ۲۰۶؍ پر کامیابی حاصل کی، جس کے بعد کئی اضلاع میں سیاسی تشدد اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔