تجویز کردہ پابندیوں میں ویزا پر پابندی اور یورپی یونین کے اندر کاروبار کرنے پر روک شامل ہے۔خاص طور پر ای ونمنصوبے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے علاقائی تسلسل کو نقصان پہنچائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے۱۹۹۹ء میں قبضہ کی گئی تقریباً۱۲۰۰۰؍ ڈونم فلسطینی زمین پر یہ منصوبہ منظور کیا تھا۔جس میں غیر قانونی یہودی بستیاں، تجارتی زون، ہوٹل اور عوامی پارک کی تعمیر شامل تھی۔ حالانکہ بین الاقوامی دباؤ کے سبب اسرائیل نے ۳۵۰۰؍ آبادیاتی اکائیوں کے تعمیری منصوبوں کو منجمد کردیا تھا، تاہم خفیہ طور پر وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق بیلجیئم کے وزیر اعظم گائے ویرہوفسٹڈ اور سابق سویڈش وزیر اعظم اسٹیفن لوفون جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں کی سفارتی کوششوں کے کی بجائے یورپی یونین کو اب فوری عملی کارروائی کرنی چاہیے۔