رپورٹس کے مطابق ممبئی کے میری ٹائم ریسکیو اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر نے پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے مدد طلب کی، جس کے بعد پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سیکوریٹی ایجنسی نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ پاکستانی بحریہ نے امدادی کارروائی کے لیے اپنا جہاز روانہ کیا، جس نے متاثرہ جہاز تک پہنچ کر عملے کو خوراک، طبی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کی تاکہ جہاز کو مستحکم کیا جا سکے اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امدادی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور حکام مسلسل جہاز کی تکنیکی صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بحیرہ عرب اور خلیجی سمندری راستوں میں کشیدگی اور سلامتی کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور سمندری راستوں کی نگرانی کے لیے کئی ممالک نے اپنی بحری سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سمندر میں پھنسنے والے جہازوں کی فوری امداد بین الاقوامی بحری قوانین اور انسانی ہمدردی کی ذمہ داریوں کا حصہ ہوتی ہے، اسی لیے سیاسی اختلافات کے باوجود بحری افواج اکثر ایسی صورتحال میں تعاون کرتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق پاکستانی بحریہ نے گزشتہ ماہ بھی بحیرہ عرب میں ایک تجارتی جہاز کے عملے کے ۱۸؍ افراد کو بچایا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سمندری امدادی کارروائیاں حالیہ عرصے میں بڑھ رہی ہیں۔ مذکورہ واقعے کے ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے، جن میں پاکستانی بحری جہاز کو ہندوستانی جہاز کے قریب امدادی سرگرمیاں انجام دیتے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے جنوبی ایشیا میں کشیدہ سیاسی ماحول کے باوجود انسانی ہمدردی اور بحری تعاون کی ایک مثال قرار دیا ہے۔