روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ۸؍ اور ۹؍ مئی کو دوسری جنگ عظیم کی برسی کے موقع پر یوکرین کے مابین جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، اس کے جواب میں زیلینسکی نے اپنی طرف سے عارضی بندی کا جواب دیا۔
دریں اثناء روسی وزارت دفاع نے کہا، ’’روسی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر انچیف ولادیمیر پوتن کے فیصلے کے مطابق۸؍ اور ۹؍ مئی ۲۰۲۶کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، ہمیں امید ہے کہ یوکرینی فریق بھی اس کی پیروی کرے گا۔‘‘ بعد ازاں روس نے مزید خبردار کیا کہ اگر یوکرین نے یوم فتح کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو روسی افواج یوکرین کے مرکز پر جوابی، بڑے پیمانے پر میزائل حملہ کرے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ہم یوکرین کے شہریوں اور غیر ملکی سفارتی مشنوں کے ملازمین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر شہر سے نکل جائیں۔‘‘
واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب یوکرین نے خود۵؍ اور ۶؍ مئی کے لیے اپنی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہ، آج تک، یوکرین کو جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار کے حوالے سے کوئی سرکاری اپیل نہیں ملی ہے جس کا روسی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اس سلسلے میں، ہم ۵؍ اور ۶؍مئی کی درمیانی شب سے جنگ بندی کے نظام کا اعلان کر رہے ہیں۔دریں اثنا، یوکرینی صدر وولودویمیر زیلنسکی پیر (4 مئی) کو سیکورٹی تعاون پر مذاکرات کے لیے بحرین پہنچ گئے، یوکرینی وفد میں موجود ایک ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا۔ ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دورے کا مقصد سیکورٹی تعاون ہے۔‘‘ تاہم مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاںیوکرین کے مطابق، جب سے ایران کی جنگ شروع ہوئی ہے، کئی خلیجی ممالک نے یوکرین سے ان کے خلاف استعمال ہونے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے میں مدد طلب کی ہے۔