ایک ای میل میں ایپسٹین نے کریم وید کو لکھا کہ ’’میں بہت خوش ہوں کہ آپ واپس آ گئے… ہم اپنے قید کے تجربات شیئر کر سکتے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپسٹین نے ۲۰۱۰ء کے آس پاس لیبیا کے سابق لیڈر معمر قذافی کے ساتھ تعلقات بنانے کی کوشش کی، اور بعد میں جب ان کی حکومت کمزور ہوئی تو مخالف گروہوں سے بھی روابط قائم کیے۔ اسی طرح، ۲۰۱۸ء میں اس نے ایک نائیجیرین نژاد کاروباری شخصیت کو امریکی پابندیوں سے بچنے کے طریقے بتائے۔ ایک مشورے میں اس نے کہا کہ ’’اگر آپ خزانہ محکمہ کے متعلقہ شعبے سے ملیں، تو شاید آپ اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔‘‘
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپسٹین نے افریقہ سے خواتین کو اپنے پاس بلانے کی کوشش کی، جن کے لیے اس نے سفر کے اخراجات ادا کرنے کی پیشکش کی۔ ایک ای میل میں اس نے لکھا کہ ’’میں ۲۵؍ سال سے کم عمر کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ مزید برآں، ایک اور متنازع پیغام میں اس نے نسلی ترجیح کا اظہار بھی کیا، جس پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ انکشافات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب Epstein Files Transparency Act کے تحت جاری ہونے والی دستاویزات نے ایپسٹین کے عالمی روابط کو مزید بے نقاب کیا ہے۔ ان دستاویزات میں افریقہ سمیت کئی خطوں میں اس کے اثر و رسوخ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ دیگر رپورٹس کے مطابق، ایپسٹین نے افریقہ میں سیاسی لیڈروں، سرمایہ کاروں اور حتیٰ کہ ماڈلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے ایک ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جس میں طاقت، کاروبار اور ذاتی مفادات آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ رپورٹ میں شامل تمام دعوے مکمل طور پر عدالتوں میں ثابت نہیں ہوئے، اور کچھ پہلو ابھی مزید تحقیقات کے متقاضی ہیں۔