ٹرمپ کے ’دشمن‘ پاویل نے امریکہ میں مچا دیا طوفان! شیئر بازار میں کہرام، ہندوستان بھی اثر انداز

(اےیوایس)

فیڈ چیئرمین نے مغربی ایشیا میں کشیدگی پر توجہ دی اور انرجی پرائز میں اضافے کے ساتھ ہی سپلائی چین میں رکاوٹ کے گلوبل خطرے پر بات کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیا، جس کی وجہ سے شرح مہنگائی اونچی سطح برقرار ہے۔

فیڈ چیئرمین کی جانب سے امریکی شرح پالیسی میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کئے جانے سے امریکہ میں اُٹھے طوفان کا اثر جمعرات کو ہندوستانی شیئر بازار پر بھی دیکھنے کو ملا۔ سینسیکس-نفٹی دونوں انڈیکس کھلنے کے ساتھ ہی کریش ہو گئے۔ بامبے اسٹاک ایکسچنج کا 30 شیئروں والا سینسیکس خراب اوپننگ کے ساتھ 900 پوائنٹس سے زیادہ  نیچے چلا گیا وہیں نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی انڈیکس بھی بڑی حد تک ٹوٹ گیا اور کھلتے ہی 200 پوائنٹس سے زیادہ کا غوطہ لگاتا نظر آیا۔
گلوبل شیئر بازاروں میں مچے کہرام کے درمیان ہندوستانی شیئر بازار میں آئی اس بڑی گراوٹ کے درمیان بی ایس ای ایس سینسیکس نے اپنے پچھلے بند 77496 کے مقابلے تیز گراوٹ کے ساتھ 77014 پر کھلا اور پھر یہ لگاتار پھسلتا چلا گیا۔ کچھ ہی منٹوں میں سینسیکس 900 پوائنٹس سے زیادہ کا غوطہ لگا کر 76500 کی سطح پر پہنچ گیا۔

این ایس ای نفٹی کا حال بھی سینسیکس جیسا ہی رہا۔ یہ 50 شیئروں والا انڈیکس اپنے پچھلے بند 24177 کے مقابلے میں تیز گراوٹ کے ساتھ 23996 پر کھلا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دیر میں نفٹی 280 پوائنٹس سے زیادہ کی گراوٹ کے ساتھ  23864 کی سطح پر کاروبار کرتا ہوا نظر آیا۔ شیئر مارکیٹ کریش کے دوران جن 10 شیئروں میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھنے کو ملی ان میں بی ایس ای لارج کیپ زمرہ میں شامل ایترنال شیئر (3.15 فیصد)، انڈیگو شیئر ( 2.87 فیصد)، اڈانی پورٹ شیئر ( 2.25 فیصد)، ایم اینڈ ایم شیئر (2.10 فیصد) کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ ریلائنس شیئر (1.50 فیصد) اور ایچ ڈی ایف سی اسٹاک (1.40 فیصد) کے گراوٹ میں نظر آیا۔

وہیں مڈکیپ زمرہ میں شامل شیئروں کی حالت پرغور کریں تو سب سے زیادہ فونیکس شیئر ( 2.55 فیصد)، وولٹاس شیئر (2 فیصد)، یس بینک شیئر (1.70 فیصد) پھسل کر کاروبار کررہے تھے۔ وہیں اسمال کیپ کمپنیوں میں شامل کوہانس شیئر (4 فیصد) تک پھسل گیا۔ فیڈ چیئرمین پاویل نے مغربی ایشیا میں کشیدگی پر فوکس کیا اور انرجی پرائز میں زبردست اضافے کے ساتھ ہی سپلائی چین میں رکاوٹ کے عالمی خطرے پر بات کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیا جس کی وجہ سے شرح مہنگائی کی اونچی سطح برقرار ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *