گجرات کے بلدیاتی انتخابات میں ایک ایسا نتیجہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ سماجی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ ریاست کے حساس شہر گودھرا (Godhra) میں ایک ہندو امیدوار اپیکشا سونی نے مسلم اکثریتی وارڈ سے کامیابی حاصل کر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نایاب مثال قائم کر دی ہے۔
یہ جیت اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ گودھرا وہی شہر ہے جو 2002 گجرات فسادات کے سبب عالمی سطح پر بدنام رہا۔ اسی شہر کے وارڈ نمبر 7 میں، جہاں ہندو ووٹروں کی تعداد بمشکل دو درجن کے قریب ہے، اپیکشا سونی کی کامیابی کو سماجی اتحاد کی ایک مضبوط علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وارڈ نمبر 7 میں ستپُل، حیاتنی واڑی، وچلا اوڈھا، چوچلا پلاٹ اور جینی پلاٹ جیسے علاقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ گودھرا ریلوے اسٹیشن اور سگنل فالیا کے قریب واقع ہے۔وہی مقامات جو سابرمتی ایکسپریس کے سانحے سے جڑے رہے ہیں، جس کے بعد 2002 کے فسادات بھڑک اٹھے تھے۔
ایسے حساس پس منظر کے باوجود، اپیکشا سونی کی جیت نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی خدمت اور اعتماد مذہبی شناخت سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔
شکست کے بعد بھی خدمت جاری رکھی
اپیکشا سونی نے 2021 کے انتخابات میں تقریباً 100 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کیا تھا۔ اس شکست کے بعد وہ دوبارہ انتخاب لڑنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ تاہم، وارڈ کے مقامی باشندوں نے خود ان سے درخواست کی کہ وہ دوبارہ میدان میں اتریں اور انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔،ان میں اکثریت مسلم برادری کی ہے۔
یہ اعتماد بے وجہ نہیں تھا۔ اپیکشا گزشتہ کئی برسوں سے علاقے کے لوگوں کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی تھیں۔ وہ نہ صرف شہری مسائل کو حل کرنے میں سرگرم رہیں بلکہ کئی بار اپنے ذاتی خرچ سے صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتی رہیں۔
حلقہ بندی بھی رکاوٹ نہ بن سکی
گزشتہ سال حلقہ بندی (Delimitation) کے عمل کے بعد اپیکشا نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ نئی صورتحال ان کے لیے سازگار نہیں تھی۔ لیکن مقامی لوگوں اور کمیونٹی رہنماؤں کے مسلسل اصرار پر انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔
آخرکار منگل کے روز جب نتائج سامنے آئے تو اپیکشا سونی نے کامیابی حاصل کی، جس کے بعد پورے وارڈ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اپنی جیت پر ردِعمل دیتے ہوئے اپیکشا سونی نے کہا کہ اس انتخاب میں لوگوں نے انہیں بیٹی اور بہن کی طرح سمجھا اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔ مقامی کونسلر ساجد کالا نے بھی ان کی کامیابی کو ان کی مسلسل محنت اور عوامی خدمت کا نتیجہ قرار دیا۔
کانگریس کے ضلع نائب صدر رفیق تجوری والا نے اس نتیجے کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ عوام مذہبی تقسیم سے اوپر اٹھ کر ایسے امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں جو واقعی ان کے مسائل کے حل کے لیے مخلص ہو۔