اتر پردیش :۱۲؍ ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ
بورڈ کے ایک رکن کے مطابق متاثرہ جائیدادوں میں چھوٹی مساجد کی زمین سے لے کر بعض اضلاع میں۳۰۰؍ ایکڑ سے زائد رقبے والے بڑے قبرستان بھی شامل ہیں۔دریں اثناء آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ منسوخی قبرستانوں کے معاملات میں ہوئی ہے، جس کے بعد مساجد کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مدارس، عیدگاہ، امام بارگاہ، درگاہ اور کچھ رہائشی و تجارتی جائیدادیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔
بعد ازاں وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پورٹل پر رجسٹریشن کا کام ابھی جاری ہے اور اس کی آخری تاریخ۶؍ جون ۲۰۲۶ء مقرر کی گئی ہے۔جبکہ جن رجسٹریشن کو خارج کیا گیا ہے، انہیں اب۵؍ جون تک درست معلومات اور مکمل دستاویزات کے ساتھ تمام تفصیل دوبارہ اپ لوڈ کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ اتر پردیش سنی وقف بورڈ کے ماتحت ریاست میںایک لاکھ ۲۶؍ ہزار سے زائد وقف ادارے ہیں۔ یہ پورا عمل مرکزی حکومت کے’’امید‘‘ پورٹل کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز جون ۲۰۲۵ء میں وقف جائیدادوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنے اور انتظام میں شفافیت لانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ وقف (ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۵ء کے تحت اس پورٹل پر رجسٹریشن لازمی کر دی گئی ہے، جو۵؍ اپریل سے نافذ العمل ہے۔ واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس اندراج کی آخری تاریخ ۶؍ دسمبر۲۰۲۵ء تھی،جس میں وقف ٹریبونل کی ہدایت پر۱۰؍ دسمبر۲۰۲۵ء میں مزیدچھ ماہ کی توسیع کردی گئی۔