دہلی: آئی آر ایس کی بیٹی کی آبروریزی اور قتل سے سنسنی، پولیس کررہی ہے تحقیقات

(اےیوایس)

دہلی کے ایک پوش علاقے میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ جنوبی دہلی کے امر کالونی علاقے میں ایک 22-23 سالہ خاتون کا مشتبہ حالات میں قتل کر دیا گیا ہے۔ متوفی خاتون ایک سینئر انکم ٹیکس (IRS) افسر کی بیٹی بتائی جاتی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں قتل کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی جنسی زیادتی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ ملزم نے مبینہ طور پر گھر میں گھس کر یہ گھناؤنا فعل کیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ 22 اپریل 2026 کی صبح پیش آیا جب خاتون کے والدین صبح کی سیر کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ ملزم نے گھر میں گھس کر خاتون پر حملہ کیا ۔ واپسی پر گھر والوں نے اسے گھر کے اندر بے ہوش اور خون میں لت پت پایا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوع پر پہنچی اور معاملے کی تفتیش شروع کردی۔

پولیس کی اب تک کی تحقیقات میں موبائل چارجر کی USB کیبل کی وجہ سے خاتون کی گردن پر دباؤ کے نشانات سامنے آئے ہیں۔ اس لیے شبہ ہے کہ اسے موبائل چارجر کیبل سے گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔ مزید ، متاثرہ کے سر پر گہرے زخم پائے گئے اور اس کے چہرے پر کئی دیگر سنگین زخم پائے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملے کے دوران خاتون نے مزاحمت کی جس پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی پولیس کو صبح تقریباً 9 بجے اس کے گھر والوں سے اس واقعہ کی اطلاع ملی۔
نوکر پرشک

مقتول کے خاندان کو قتل کا شبہ ان کے سابق نوکر راکیش مینا پر ہے۔ پولیس کے مطابق راکیش کو تقریباً ایک ماہ قبل ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ خاتون کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ وہ واقعے کی صبح گھر پہنچا اور بدلہ لینے کے لیے یہ جرم کیا۔

عصمت دری، قتل اور چوری

ملزم نے پہلے خاتون کے ساتھ زیادتی کی، پھرچوری کی اور فرار ہونے سے پہلے اسے قتل کردیا۔ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ آس پاس کے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تفتیش کی جا رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک جانچ کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آئے گی۔ فی الحال اس گھناؤنے قتل نے علاقے میں دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور سیکورٹی کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *