میگھالیہ کے دارالحکومت میں شدت پسندوں کے ہنگامے کے بعد کشیدگی کی اطلاعات ہیں ۔ دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے اراکین نے مبینہ طور پر ایک مسجد کو زبردستی بند کر وادیا اور اس کے امام کو دھمکیاں دیں جس سے مقامی مسلمانوں میں ناراضگی پھیل گئی۔یہ واقعہ شیلانگ کے لوئر لمپرنگ علاقے میں پیش آیا جہاں خاصی اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) نے مبینہ طور پر مداخلت کرکے لمپرنگ مسجد کو بند کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق تنظیم نے دعویٰ کیا کہ مسجد کسی قانونی اجازت کے بغیر چل رہی تھی۔گزشتہ روز تنظیم کے اراکین جائے وقوع پر پہنچے اور وہاں موجود لوگوں سے مذہبی سرگرمیاں بند کرنے کی دھمکی دی۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ تنظیم نے کسی رسمی انتظامی احکامات کا انتظار کئے بغیر یہ کارروائی کی۔ایک رہائشی نے کہا’’لوگ خوفزدہ تھے۔ وہ ایک گروپ میں آئے اور زبردستی مسجد کو بند کرا دیا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو گا۔‘‘
مسجد کے امام کو بھی مبینہ طور پر دھمکی دی گئی اور فوری طور پر انہیں احاطے کو خالی کرنے کو کہا گیا۔ مسلم فرقہ کے ایک رکن نے کہا’’یہ صرف ایک عمارت کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے نماز پڑھنے اور خوف کے بغیر رہنے کے حق کے بارے میں ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں ‘‘، دریں اثنا کے ایس یو کے نمائندے شائن شائننگ اسٹار چن نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈھانچہ غیر مجاز تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’یہ جگہ قریبی قبرستان کے نگراں کیلئے تھی لیکن بعد میں اسے بغیر اجازت کے مسجد کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ہم نے یہ مسئلہ پہلے بھی اٹھایا ہے۔‘‘ صورتحال کی سنگینی کے باوجود ضلع انتظامیہ یا پولیس حکام کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس خاموشی نے مبصرین میں تشویش کو جنم دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اعتماد اور نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے ایسے واقعات پر فوری اور واضح ردعمل ضروری ہے۔ایک قانونی مبصر نے کہا’اگر کوئی ڈھانچہ مجاز نہیں ہے، تو اسے قانونی عمل کے ذریعے نمٹا جانا چاہیے۔ کوئی بھی گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ابھی تک کسی قسم کے تشدد کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم حالات بدستور کشیدہ ہیں ۔ بہت سے رہائشی اب مذہبی حقوق کے تحفظ اور قانون کے تحت مساوی سلوک کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
لوک سبھا میں راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی کو ’جادوگر‘ کہنے کے بعد ہنگامہ ۔ راجناتھ سنگھ نے معافی کا کیامطالبہ
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو طنزیہ انداز میں ’’جادوگر‘‘ قرار دے کر ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث میں حصہ لے رہے تھے، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین نے سخت احتجاج کیا۔
اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے انتخابی نقشے کو اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ملک کی بدلتی ہوئی سیاست سے خوفزدہ ہے اور اپنی کمزور ہوتی سیاسی طاقت کو بچانے کے لیے نئے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔
’’آپ (بی جے پی) جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اس لیے کہ آپ ملک کی سیاست میں ہو رہی تبدیلیوں سے خوفزدہ ہیں۔ آپ اپنی طاقت میں کمی سے گھبرا گئے ہیں اور اسی لیے آپ ملک کے سیاسی نقشے کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے ایسا آسام اور جموں و کشمیر میں کیا، اور اب آپ سمجھتے ہیں کہ پورے بھارت میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔‘‘
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ یہ بل ایوان میں پاس نہیں ہوگا، اسی لیے وہ گھبراہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا،
’’سچ یہ ہے کہ جادوگر پکڑا گیا ہے۔ بالاکوٹ کا جادوگر، نوٹ بندی کا جادوگر، سندور کا جادوگر۔۔ اب سب کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔‘‘
’’سب جانتے ہیں کہ ہمارے اس دوست، یعنی جادوگر، اور ایک بزنس مین کے درمیان شراکت داری ہے۔‘‘
بی جے پی کا شدید ردعمل اور معافی کا مطالبہ
راہل گاندھی کے ان بیانات پر بی جے پی کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ وزیر برائے پارلیمانی امور کرن ریجیجو نے راہل گاندھی کے الفاظ کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے لیے غلط زبان استعمال کر رہے ہیں اور بالاکوٹ حملے اور آپریشن سندور کا حوالہ دے کر ملک اور فوج کی توہین کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کے ریمارکس کو کارروائی سے حذف (Expunge) کیا جائے۔ انہوں نے کہا،
’’قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا،
’’بار بار انہیں ’جادوگر‘ کہنا دراصل ملک کے عوام کی توہین ہے۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ ان کے الفاظ کارروائی سے حذف کیے جائیں اور راہل گاندھی کو معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
اسپیکر کی مداخلت اور راہل گاندھی کا ردعمل
اسپیکر اوم برلا نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان میں اس طرح کے الفاظ کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو تنبیہ کی کہ وہ موضوع پر رہیں اور غیر مناسب زبان استعمال نہ کریں۔
اس پر راہل گاندھی نے جواب دیا کہ بی جے پی قیادت کے درمیان ایک ’’مرکزی کنفیوژن‘‘ پائی جاتی ہے، تاہم بعد میں انہوں نے ’’جادوگر‘‘ کا لفظ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے مزید کہا،
’’آپ (بی جے پی) بھارت کے عوام نہیں ہیں، نہ ہی آپ مسلح افواج ہیں۔ آپ ایک سیاسی جماعت ہیں۔ ہم نہ تو عوام پر حملہ کر رہے ہیں اور نہ ہی فوج پر، بلکہ ہم آپ پر تنقید کر رہے ہیں۔ آپ خود کو فوج کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی کا تنازع
راہل گاندھی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کے نفاذ کو حلقہ بندی (Delimitation) کے عمل سے جوڑنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس تجویز کو ریاستوں میں سیاسی نمائندگی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ اب محض قانون سازی تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کر رہے ہیں۔