استغاثہ کے مطابق، دونوں نوجوانوں کو ۷؍ مارچ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک اسلام مخالف مظاہرے کے دوران میئر ظہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب مبینہ طور پر دھماکہ خیز حملے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جائے وقوعہ پر دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ میں، جو ان کی گاڑی کے ڈیش کیم سے حاصل کی گئی، کیومی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں دہشت شروع کرنا چاہتا ہوں، بھائی۔‘‘
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے گرفتاری کے بعد شدت پسند تنظیم داعش کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ جائے وقوعہ پر موجود رپورٹس کے مطابق، ایک ملزم کو واقعے کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا گیا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پٹیل نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ان افراد نے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد تیار کیا اور انہیں داعش کے نام پر نیویارک کی سڑکوں پر دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی۔‘‘
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک متنازع اسلام مخالف مظاہرے کے دوران پیش آیا، جس کا اہتمام دائیں بازو سے وابستہ کارکن جیک لینگ نے کیا تھا۔ مظاہرے میں تقریباً ۲۰؍ افراد شریک تھے، جبکہ اس کے قریب ایک جوابی احتجاج میں تقریباً ۱۲۵؍ افراد موجود تھے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔ حکام کے مطابق، دونوں ملزمان اس وقت زیر حراست ہیں اور کیس کی قانونی کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے مقدمے کی تیاری کے لیے اگلی سماعت ۱۶؍ جون مقرر کی ہے، جہاں استغاثہ اور دفاع دونوں اپنے دلائل پیش کریں گے۔