اسٹنگ ویڈیو میں کیا دعویٰ گیا ہے؟
ٹی ایم سی کے مطابق جاری کردہ ویڈیو میں ہمایوں کبیر مبینہ طور پر ایک ہزار کروڑ روپے کی ڈیل کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں جس میں۳۰۰ ؍ کروڑ روپے ایڈوانس دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
کن لیڈروں کے نام لئے گئے؟
پارٹی کا الزام ہے کہ اس مبینہ ڈیل میں بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو، آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما، مغربی بنگال کے لیڈر شوبھیندو ادھیکاری اور پی ایم او کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ٹی ایم سی کی پریس کانفرنس
اس معاملے پرٹی ایم سی لیڈر فرہاد حکیم، اروپ بسواس اور کنال گھوش نے پریس کانفرنس کر کے اسے بڑا انکشاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو نہایت سنگین ہے اور اس سے ایک بڑی سازش کا اشارہ ملتا ہے۔
ای ڈی سےجانچ کا مطالبہ
ٹی ایم سی نے اس پورے معاملے کی جانچ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ( ای ڈی) سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے مالی لین دین کے الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔
ہمایوں کبیر کا جواب
ٹی ایم سی کے الزامات پر ہمایوں کبیر نے جواب دیتے ہوئے کہا، ’’یہ اسٹنگ آپریشن اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ٹی ایم سی کے اشارے پر ہوا ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ’’ہمایوں کبیر کس کیلئے کام کر رہے ہیں؟ ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ وہ ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں؟ عوام کو گمراہ کون کر رہا ہے؟ اس پر عوام کو ضرور غور کرنا چاہئے۔‘‘
ٹی ایم سی نے اسے مغربی بنگال انتخابات سے جڑی سازش بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک بڑا سیاسی کھیل ہے۔ اس انکشاف کے بعد ریاست کی سیاست میں تناؤاور الزام تراشی میں تیزی آ گئی ہے۔